قصرِ جمالیات کا گہنا زمین ہے
اور آسماں کی حاشیہ آرا زمین ہے
دستِ کرشمہ ساز کے جو ہاتھ میں ہے گیند
خشکی تری کا گویا کہ گولا زمین ہے
عرشِ بریں کہ تخت سا بہتا تھا آب پر
پھر اوج سے فراز نے بولا زمین ہے
نقش و نگار کھینچ کے لوحِ دوام پر
خاکہ سا کیسا خاک بنایا زمین ہے
مٹی جو اپنی خاک اڑانے لگی تو پھر
گردوغبارِ طور نے جانا زمین ہے
بُرجوں کا کھیل جاری و ساری ہے اک طرف
ردوبدل میں گھومتا چرخا زمین ہے
اُس نے کہا تو حیرتیں تجسیم ہو گئیں
حیرت کدے میں بیضوی قطعہ زمین ہے
جلوہ نمائے شوق ہے یہ کائناتِ عشق
اس ظرفِ بے پناہ کا پیندا زمین ہے
اصغر تمام موسموں نے سوچ کر کہا
اپنے تغیرات کا چہرہ زمین ہے
