اوجِ فلک پہ میرا ستارا نہ تھا کبھی
وہ اِس لیے کہ بخت سنوارا نہ تھا کبھی
خُوددار اِس قدر تھا کہ ڈُوبی ہزار ناؤ
ساحل پہ دوستوں کو پُکارا نہ تھا کبھی
جب تک وہ بے وفا مرا بازو بنا رہا
میں تو کسی محاذ پہ ہارا نہ تھا کبھی
ہم اُس کو بُھول جاتے اُسی شخص کی طرح
اِس دِل پہ اختیار ہمارا نہ تھا کبھی
کچھ اِس طرح چلی ہیں زمانے کی آندھیاں
لگتا ہے اب وہ شخص بھی پیارا نہ تھا کبھی
قائل مجھے قبول ہی کرنا پڑا اُسے
وہ دردِ یار جو کہ گوارا نہ تھا کبھی
۔۔۔۔۔۔۔۔
سوچتا رہتا ہُوں اکثر یہ مرا دِل کیا ہے دِل
کل بھی یہ تنہا بہت تھا آج بھی تنہا ہے دِل
جانے کس جانب کو برسیں موسموں کی بارشیں
کل بھی صحرا تھا مرا دِل آج بھی صحرا ہے دِل
آج بھی ہونٹوں پہ کندہ ہیں گئے وقتوں کے غم
آج بھی میں غم زدہ ہُوں، آج بھی ویسا ہے دِل
اَب تو کوئی بھی تڑپ کوئی کسک باقی نہیں
جانے والوں کے لیے کیوں غم زدہ رہتا ہے دِل
جانے کن کن دوستوں نے راہ میں چھوڑا مجھے
جانے کن کن دوست داروں نے مرا توڑا ہے دِل
آج بھی آنکھوں سے قائل اشکِ غم ٹپکے بہت
آج بھی برسے ہیں بادل، آج بھی رویا ہے دِل
