ہم نے ایک کاغذ پر لکھ دیا خدا حافظ
دوستوں کے ہاتھوں میں ہے دیا ‘ خُدا حافظ
وحشتوں سے اب جس کی ڈر رہے ہیں وحشی بھی
ایسے دشت کی جانب میں چلا ‘ خُدا حافظ
مجھ کو جس کا مدت سے انتظار تھا لوگو!
قافلہ … مجھے لینے… آگیا ‘ خُدا حافظ
میں نے جس کو برسوں سے اپنے دل میں پالا تھا
غم وہی… مرے دل کو ‘ کھا گیا‘ خُدا حافظ
وہ کہ جس کے آنے سے پھول کھلنے لگتے تھے
زین! موسمِ خوشبو ‘ وہ گیا ‘ خُدا حافظ
