زین علی رضوی ۔۔۔ ہم نے ایک کاغذ پر لکھ دیا خدا حافظ

ہم نے ایک کاغذ پر لکھ دیا خدا حافظ دوستوں کے ہاتھوں میں ہے دیا ‘ خُدا حافظ وحشتوں سے اب جس کی ڈر رہے ہیں وحشی بھی ایسے دشت کی جانب میں چلا ‘ خُدا حافظ مجھ کو جس کا مدت سے انتظار تھا لوگو! قافلہ … مجھے لینے… آگیا ‘ خُدا حافظ میں نے جس کو برسوں سے اپنے دل میں پالا تھا غم وہی… مرے دل کو ‘ کھا گیا‘ خُدا حافظ وہ کہ جس کے آنے سے پھول کھلنے لگتے تھے زین! موسمِ خوشبو ‘ وہ…

Read More