اکرم ناصر ۔۔۔ بہار آنے کا مژدہ ہمیں سنا دیا ہے

بہار آنے کا مژدہ ہمیں سنا دیا ہے
شجر نے آخری پتہ بھی کل گرا دیا ہے

اب اتنے اڑتے ہو ئے جگنوؤں کا کیا ہو علاج
دیا تو بس میں تھا اپنے، دیا بجھا دیا ہے

اسے بتا دیا ہے، اب وہ اپنی حد میں رہے
اور اس کی حد ہے کہاں تک ، اسے بتا دیا ہے

قدم قدم پہ مجھے روکتا تھا، ٹوکتا تھا
ضمیر جاگا ہوا تھا اسے سلا دیا ہے

نکل نہ پائے گا اک جال سے نکل کر بھی
اک اور جال ہے جو راہ میں بچھا دیا ہے

اب اور موقع ملے گا اگر تو دیکھیں گے
کہ ایک موقع ملا تھا جسے گنوا دیا ہے

Related posts

Leave a Comment