ماجد صدیقی ۔۔۔ رُت وہ کیوں ہو بھلا قبول مجھے

رُت وہ کیوں ہو بھلا قبول مجھے
آگ لگتے ہوں جس کے پھول مجھے

جس سے ٹھہرا تھا میں بہشت بدر
سخت مہنگی پڑی وہ بھُول مجھے

بزم در بزم، کرب کا اظہار
کر نہ دے اور بھی ملول مجھے

بات کی میں نے جب مرّوت کی
وہ سُجھانے لگے اصول مجھے

دیکھ کر دشت میں بھی طالبِ گل
گھُورتے رہ گئے ببول مجھے

جس کا ابجد ہی اور سا کچھ تھا
بھُولتا کب ہے وہ سکول مجھے

Related posts

Leave a Comment