شبِ سیاہ میں جگنو سا جو نگاہ میں ہے اُسی سے تابِ سفر عزم کی سپاہ میں ہے ذرا سا ہے پہ نہ ہونے کا اور ہونے کا ثبوت ہے تو فقط خواہشِ گناہ میں ہے جو بے ضرر ہے اُسے جبر سے اماں کیسی یہاں تو جبر ہی بس جبر کی پناہ میں ہے زمیں کس آن نجانے تہِ قدم نہ رہے یہی گماں ہے جو لاحق تمام راہ میں ہے نجانے نرغۂ گرگاں سے کب نکل پائے کنارِ دشت جو خیمہ، شبِ سیاہ میں ہے بڑھائیں مکر سے…
Read MoreTag: ماجد
ماجد صدیقی ۔۔۔ سرفرازی بھی دے خجالت بھی
سرفرازی بھی دے خجالت بھی دے شرف تخت، دے رزالت بھی منصف و مدّعی ہے زور آور آپ اپنی کرے وکالت بھی چھُوٹتے ہی جو وار کر ڈالے نام اُسی کے لگے بسالت بھی ہم نے دیکھے ہیں بر سرِ عالم قتل مِن جانبِ عدالت بھی وہ کہ جو بے خطا ہے، اندر سے خون کھولائے اُس کی حالت بھی ضد ہو میزانِ عدل جب ماجد! کیا کرے بحث کی طوالت بھی
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ رُت وہ کیوں ہو بھلا قبول مجھے
رُت وہ کیوں ہو بھلا قبول مجھے آگ لگتے ہوں جس کے پھول مجھے جس سے ٹھہرا تھا میں بہشت بدر سخت مہنگی پڑی وہ بھُول مجھے بزم در بزم، کرب کا اظہار کر نہ دے اور بھی ملول مجھے بات کی میں نے جب مرّوت کی وہ سُجھانے لگے اصول مجھے دیکھ کر دشت میں بھی طالبِ گل گھُورتے رہ گئے ببول مجھے جس کا ابجد ہی اور سا کچھ تھا بھُولتا کب ہے وہ سکول مجھے
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ عرش سے رُخ جانبِ دنیائے دُوں کرنا پڑا
عرش سے رُخ جانبِ دنیائے دُوں کرنا پڑا بندگی میں کیا سے کیا یہ سر نگوں کرنا پڑا مِنّتِ ساحل بھی سر لے لی بھنور میں ڈولتے ہاں یہ حیلہ بھی ہمیں بہرِسکوں کرنا پڑا سامنے اُس یار کے بھی اور سرِ دربار بھی ایک یہ دل تھا جسے ہر بار خوں کرنا پڑا ہم کہ تھے اہلِ صفا یہ راز کس پر کھولتے قافلے کا ساتھ آخر ترک کیوں کرنا پڑا خم نہ ہو پایا تو سر ہم نے قلم کروا لیا وُوں نہ کچھ ماجد ہُوا ہم سے…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ سر پہ کیا کیا بوجھ روز افزوں نظر آنے لگے
سر پہ کیا کیا بوجھ روز افزوں نظر آنے لگے عمر ڈھل جانے لگی اور قرض بڑھ جانے لگے بحر میں حالات کے، بے رحم موجیں دیکھ کر اژدہے کچھ اور ہی آنکھوں میں لہرانے لگے مِہر کے ڈھلنے، نکلنے پر کڑکتی دھوپ سے گرد کے جھونکے ہمیں کیا کیا نہ سہلانے لگے تُند خوئی پر ہواؤں کی، بقا کی بھیک کو برگ ہیں پیڑوں کے کیا کیا، ہاتھ پھیلانے لگے وحشتِ انساں کبھی خبروں میں یوں غالب نہ تھی لفظ جو بھی کان تک پہنچے وہ دہلانے لگے چھُو…
Read Moreباکمال شاعر،ادیب،نغمہ نگار،صحافی اورمترجم: سید یزدانی جالندھری ۔۔۔ سید ماجد یزدانی
باکمال شاعر،ادیب،نغمہ نگار،صحافی اورمترجم: سید یزدانی جالندھری (تیسویں برسی پر خصوصی تحریر) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یزدانی جالندھری اردو میں جدید کلاسیکی روایت کے ترجمان شاعر تھے۔ یزدانی جالندھری (1915ء-1990ء) کی ولادت پنجاب کے ادب خیز شہر جالندھر کے گیلانی سادات گھرانے میں ہوئی۔ ان کا خاندانی نام ابو بشیر سیّد عبدالرشید یزدانی اور والد کا نام سیّد بہاول شاہ گیلانی تھا جو محکمہ تعلیم میں صدر مدرس تھے. ابتدائی تعلیم جالندھر میں حاصل کی۔ تقسیمِ برِصغیر سے پہلے ہی ان کا خاندان منٹگمری (ساہیوال) منتقل ہو گیا اور یزدانی وہاں سے مزید تعلیم…
Read More