گلگشت ۔۔۔ مجروح سلطان پوری

گلگشت ۔۔۔۔ یہ سوچا چل کے ارضِ کاشمر پر پِھروں اک بار مَیں بھی ہو کے سرمست وہاں پہنچا تو دیکھا وادئ گل خزاں کے رنگ ہیں بالا ہو یا پست خس و خاشاک بکھرے ہیں چمن میں نہ کشتِ گل نہ سبزے کا دَر و بست اُگے ہیں چار سُو پودوں کے مانند کہیں پر سر کہیں پر بازو و دَست سپاہِ امن، لشکر تا بہ لشکر پڑی ہے چشمہء خوں پر سیہ مست عجب آوازِ گریہ تھی فضا میں لگا سینے سے دل، کر جائے گا جست مَیں…

Read More

مجروح سلطان پوری

نہ مٹ سکیں گی یہ تنہائیاں، مگر، اے دوست! جو تُو بھی ہو تو طبیعت ذرا بہل جائے

Read More

نگاہ ساقئ نا مہرباں یہ کیا جانے ۔۔۔ مجروح سلطان پوری

نگاہِ ساقئ نا مہرباں یہ کیا جانے کہ ٹوٹ جاتے ہیں خود دِل کے ساتھ پیمانے ملی جب ان سے نظر بس رہا تھا ایک جہاں ہٹی نگاہ تو چاروں طرف تھے ویرانے حیات، لغزش پیہم کا نام ہے، ساقی! لبوں سے جام لگا بھی سکوں، خدا جانے تبسموں نے نکھارا ہے کچھ تو ساقی کے کچھ اہل غم کے سنوارے ہوئے ہیں مے خانے یہ آگ اور نہیں، دل کی آگ ہے ناداں چراغ ہو کہ نہ ہو، جل بجھیں گے پروانے فریبِ ساقئ محفل، نہ پوچھیے مجروح شراب…

Read More

باکمال شاعر،ادیب،نغمہ نگار،صحافی اورمترجم: سید یزدانی جالندھری ۔۔۔ سید ماجد یزدانی

باکمال شاعر،ادیب،نغمہ نگار،صحافی اورمترجم: سید یزدانی جالندھری (تیسویں برسی پر خصوصی تحریر) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یزدانی جالندھری اردو میں جدید کلاسیکی روایت کے ترجمان شاعر تھے۔ یزدانی جالندھری (1915ء-1990ء) کی ولادت پنجاب کے ادب خیز شہر جالندھر کے گیلانی سادات گھرانے میں ہوئی۔ ان کا خاندانی نام ابو بشیر سیّد عبدالرشید یزدانی اور والد کا نام سیّد بہاول شاہ گیلانی تھا جو محکمہ تعلیم میں صدر مدرس تھے. ابتدائی تعلیم جالندھر میں حاصل کی۔ تقسیمِ برِصغیر سے پہلے ہی ان کا خاندان منٹگمری (ساہیوال) منتقل ہو گیا اور یزدانی وہاں سے مزید تعلیم…

Read More