ماجد صدیقی ۔۔۔ وہ چنچل جب سے میرا ہو گیا ہے

وہ چنچل جب سے میرا ہو گیا ہے
خدا بھی میرے اندر آ بسا ہے

وہ جس کی دید سے ہوں سیر آنکھیں
ثمر سے بھی زیادہ رَس بھرا ہے

نگاہوں میں چھپی نجمِ سحر سی
عجب بے نام سی طُرفہ حیا ہے

اسے دیکھو بہ حالِ لطف جب بھی
مثالِ مہ، پسِ باراں دھُلا ہے

کرے وہ گل نہ ایسا تو کرے کیا
سنا ہم نے بھی ہے وہ خود نما ہے

تعلق اُس سے ماجد کیا بتائیں
معانی سا جو لفظوں میں بسا ہے

Related posts

Leave a Comment