اکرم کنجاہی ۔۔۔ منزہ احتشام گوندل

منزہ احتشام گوندل

منزہ احتشام گوندل ضلع سرگودھا کے ایک قصبے میں ۱۹۸۴ء میں پیدا ہوئیں۔اُن کی تخلیقات اِس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ ایک صاحبِ مطالعہ خاتون ہیں۔درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔نسائی ادب کے حوالے سے اُن کا تحقیقی کام بھی اہم ہے۔ترقی پسند تنقید بھی اُن کی تحقیق کا موضوع ہے۔ نثری اورآ زاد نظموں کا ایک بہترین مجموعہ ’’منزہ نظمیں‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہو چکا ہے۔کچھ عرصہ پہلے اُن کا افسانوی مجموعہ ’’آئینہ گر‘‘ بھی زیورِ طباعت سے آراستہ ہوا۔
فکشن کی زبان لکھنا جانتی ہیں۔ فقرہ سازی کا ہُنر رکھتی ہیں۔نظم کی بہترین شاعرہ ہیں۔ بات کی تہہ داریوں اور لفظ کی لغوی و اصطلاحی معانی سے آشنا۔اُن کی تخلیقات میں کامل معروضیت ذرا کم ہے کہ نگارشات میں اُن کی اپنی شخصیت جھلکتی ہے۔کئی بار توتخلیقات پر سوانحی افسانے کا گمان گزرتا ہے۔
اِس حوالے سے افسانے بامقصد ادب میں شمار ہوں گے کہ اُن میں تانیثیت جھلکتی ہے۔ مگر وہ، زیتون بانو،طاہرہ اقبال اورشہناز شورو کی طرح نسائی مسائل کے بیان میں بلند آہنگ ہیں۔ اِن کے ہاں تہہ داری زیادہ ہے۔آئیے اُن کے چند افسانوں کا جائزہ لیتے ہیں:
سہ ماہی غنیمت ۵؍ میں شامل افسانہ ’’کامیابی‘‘ میں ’’شنگارا راما گوپے‘‘ فراعنہ مصر کے زمانے کا اہرامِ مصر کی دیواروں پر نقش تصویری خط کو پڑھنے کا ماہر لسانیات اور آرکیالوجسٹ ہے جو اپنی تمام عمر قدیم زمانے کی زبان سیکھنے میں صرف کر دیتا ہے۔ظاہر ہے اپنی بیوی اور بچے کے حصے کا وقت بھی اُسی فن کی نذر کر دیتا ہے۔جس دن اُسے ایوارڈ سے نوازا جا رہا ہے۔افسانے سے ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’گم صم سی، خاموش سی ’’سادھوی‘‘کا شکوہ کُناں چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔ وہ اس کے سامنے جم کر کھڑی ہو گئی تھی . اس کی نگاہوں میں شکوے اور ہونٹوں پر تمسخر آمیز مسکراہٹ تھی جیسے کہہ رہی ہو۔
’’مبارک ہو‘‘گوپے، کئی ہزار سال پہلے کے مرجانے والے دفن شدہ لوگوں کے راز تم نے دریافت کر لیے. خاک ہوجانے والوں کی زبان سمجھ لی اور ان کے دل کے حال دریافت کر لیے۔ تو ان کی زبان کا محرم ہو کے محترم اور مقدّس ہو گیا۔ عمر عزیز خرچ کر کے، بیوی اور بچوں کے حقوق بھلا کے، ان کے دل کے احوال سے بے خبر رہ کر تو نے کئی ہزار سال قبل کے مر جانے والے لوگوں کی زبان سیکھی۔
تجھے اپنی شہہ رگ کے پاس بیٹھی بیوی کی زبان کبھی سمجھ نہ آسکی۔
تجھے اپنے معصوم بچوں کے دلوں کا حال معلوم نہ ہوسکا۔
تو نے اپنے حال کو اپنے موجود کو ماضی کی خاک میں ملا دیا۔ تیری بیوی مر گئی تیرے بچے کیا ہوئے, تجھے کچھ خبر نہیں۔‘‘
سہ ماہی غنیمت ۱۱ ؍میں شامل افسانے ’’یہ زمیں چپ ہے‘‘ سے اقتباس:
’’جس دن لویزا کے شوہر نے اس کے بھائی کو قتل کر کے اپنی بہن اولیما کے ساتھ شادی کر لی تھی عورت کو تو اسی دن برداشت اور سہنے کا سبق مل گیا تھا۔ ایک عورت نے بھائی کے قتل کا صدمہ سہا اور شوہر کے چھن جانے کا…
تو دوسری نے شوہر کے قتل اور بھائی کے ساتھ زوجیت کے جبر کو برداشت کیا۔
کیا ہی اچھا ہوتا جو دونوں اکلوتے قابیل پر جھپٹ پڑتیں اور اسے قتل کر دیتیں۔ تو آج ہم ایک قاتل اور قابض مرد اور ایک مجبور عورت کی اولاد نہ ہوتے۔ دونوں آپس میں شادی کر لیتیں۔ جو خدا کو یہ منظور نہ ہوتا تو وہ باغ عدن سے کوئی نیا مرد ان کے لیے بھیج دیتا۔ اور اگر خدا کو دونوں کے لیے ایک ہی مرد منظور نہ ہوتا تو دو مرد بھیج دیتا۔ کیونکہ بالآخر خدا کو بھی تو اپنا کاروبار چلانا تھا۔ وائے افسوس کہ دونوں پہلے ہی دن سہم گئیں۔ برداشت کر گئیں۔ اور آج تک کر تی آرہی ہیں۔
وہ کسی کو کچھ بتا نہیں رہی تھی اور گھر کا ہر فرد چپ تھا سب ایک دوسرے کو اس نازک کانچ کی طرح لگ رہے تھے جو زور کے سانس سے بھی تڑخ جاتا ہے. سناٹا دیوار و در کے اندر کیکٹس کی طرح اگ آیا تھا۔ ایسا کیا ہو گیا تھا مومنہ سے جوندیم نے اسے طلاق دے دی۔ گھر کے اندر چپ کے ڈیرے تھے اور چپ کی بُکل میں اندیشے، وسوسے، خوف اور رسوائیاں چھپی تھیں۔ دماغوں کے اندر خوف کلبلا رہے تھے کیونکہ اس گھر کی بیٹی کو طلاق ہوئی تھی۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اگر اسی گھر کے مر د نے طلاق دی ہوتی تو دماغوں کے اندر خوف اور اندیشوں کی بجائے وضاحتیں اور تاویلیں کلبلا رہی ہوتیں۔ مائیں بیٹوں کی پیدائش پر اس لیے خوش ہو تی ہیں کہ ان کے ساتھ اندیشے اور رسوائیاں جنم نہیں لیتیں۔ مگر بیٹی کے جنم کے ساتھ ہی خوف، خدشے اور اندیشے بھی جنم لے لیتے ہیں جو کہ آخری سانس تک جان کا بوجھ رہتے ہیں۔
جوان بھائی کی موت کے صدمے سے سلگتی مومنہ اس کے بستر پر جانے کے لیے خود کو تیار نہ کر سکی تھی تو کیا یہ اتنا بڑاجرم تھا کہ اس کو طلاق دے دی جاتی…؟
وہ کم از کم خالد کی موت کے پندرہ دن تو گزرنے دیتا…
میرا جی چاہا کہ یہ فرش چاک ہو جائے۔
چھت بھک سے اُڑ جائے۔
اور میں اتنی زور سے چیخوں کہ پھیپھڑے پھٹ جائیں۔‘‘
افسانہ ’’اوڈ کالونی‘‘…ایک کردار جو ’’اسٹام فروش‘‘ ہے۔روزانہ بس میں سفر کرتا ہے جس میں دیگر مرد اور کچھ مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والی عورتیں بھی روزانہ سفر کرتی ہیں۔وہ کردار بس کے اندرونی ماحول کی کہانی سناتا ہے۔اُس کے ساتھ مرد مسافر اُن خواتین کو کن اکھیوں سے دیکھ کر اپنی جنسی تسکین کا پہلو تلاش کرتے ہیں۔افسانہ نگار نے اُن کی جنسی نفسیات پر بات کی ہے۔
’’آئینہ گر‘‘ بھی تانیثی فکر کا حامل ایک نیم تجریدی افسانہ ہے۔وہ جہاں بات کو راست انداز میں بیان نہیں کر پاتیں، تجرید و علامت کا سہارہ لیتی ہیں۔ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:’’جن ہاتھوں کو پھل توڑنا تھا وہ کبھی اُس کی جانب نہ بڑھے۔ہزاروں ندیدی نظریں، للچائی ہوئی زبابیں اور نا مرادگستاخ ہاتھ اُس کی طرف بڑھتے رہے، مگر جونہی کوئی اُس کی طرف سیڑھی لگاتا وہ کہیں اوپر چلی جاتی۔وہ سارے طلب گاروں کے لیے نظر کے دھوکے کی طرح تھی۔نظر آتی مگر وہ جب قریب پہنچتے تو غائب ہو جاتی۔جن آنکھوں کو وہ پھل دیکھنا تھا، وہ کبھی اُس کی جانب نہ اُٹھیں۔جب آنکھیں ہی نہ اٹھیں تو ہاتھ کیسے پہنچ سکتے ہیں اور پھر زبان تک جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘
’’جنسِ گراں‘‘ میں تانیثی تجربات و مشاہدات کی تلخی گھلی ہوئی ہے۔شادی سے پہلے رشتے طے کرتے وقت عورت کو جس طرح پرکھا اور دیکھا جاتا ہے وہ یقیناً انسانیت کی تذلیل ہے۔ افسانہ نگار کا موقف یہ ہے کہ کیا حسن و خوب صورتی موزونیت اور تناسب کا نام نہیں ہے۔ کیا جسم کے معیارات ہی سب کچھ ہیں۔کیا جسم بے ڈھب ہو جائے تو انسان شرف انسانی سے گر جاتا ہے۔کیا انسان نا کارہ ہو جاتا ہے۔ کیا انسان کی شرافت، دین داری، علم، مطالعہ، تعلیم، اُس کی ذہنی خوب صورتیاں کوئی معانی نہیں رکھتیں۔ یقیناً یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ اپنی بیٹی اور بیٹے کی لیے اور معیار اور پرائے بیٹے بیٹی کو پرکھنے کے الگ معیارات۔ یہ کھلا تضاد اور منافقت ہے۔ مصنفہ نے ایک اہم موضوع پر بات کی ہے مگر فنی اعتبار سے ہمیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ یہ ایک افسانوی مجموعہ ہے۔اگر اپنے خیالات اور فکر و فلسفہ کو مضمون یا تقریر کی صورت پیش کرنے کی بجائے کسی مکالمے کی صورت آگے بڑھایا جائے تو تخلیق پر مضمون کا گمان گزرنے کی بجائے اُس میں افسانوی؍کہانی پن کا رنگ نظر آتا ہے اور قاری پر فکشن نگار کی گرفت مضبوط رہتی ہے۔
’’زندگی اور موت کے بیچ کی سیٹی‘‘ میں بھی کئی مقامات پر اِن معیارات پر بات کی گئی ہے:’’معیارات دماغوں کے اندر ہوتے ہیں ورنہ زبان اور تالو کی حد تک تو سارے ہونٹ ذائقے ایک جیسے ہوتے ہیں۔‘‘ ’’دماغوں کے معیارات ہی اونچ نیچ لاتے ہیں، ورنہ اونچ نیچ کہاں ہے‘‘ ’’تم دماغوں کی سزا گوشت اور ہڈیوں کو کیوں دیتی ہو۔
منزہ کے افسانے اپنے ماحول اور معاشرت سے جڑے ہوئے ہیں۔
افسانہ ’’کمرے سے کمرے تک‘‘…ایک لڑکی کی تعلیم کے میدان میں جد و جہد پر مبنی افسانہ ہے۔وہ مالی مشکلات اور دیگر خاندانی پس ماندگی کے باوجود، خود تو مقابلے کا امتحان دے کر کامیاب ہو جاتی ہے مگر بصد کوشش اپنے اہلِ خانہ بالخصوص اپنی ماں کا ذہن اور خیالات نہیں بدل سکتی اور گھر کے معاملات سے کنارہ کش ہو جاتی ہے۔ہمارے ملک کے پس ماندہ علاقوں میں جہاں تعلیم کا فقدان ہے جہالت زیادہ ہے، وہاں گھر کا کوئی فرد اعلیٰ تعلیم حاصل کر بھی لے تو دیگر افراد کی فکری و ذہنی حالت کو بدلنا اُس کے لیے بے حد مشکل ہوتا ہے اور وہ آگہی کی جہنم میں جلتا رہتا ہے:
مرے قریب نہ آ اے بہشتِ بے خبری
کہ آگہی کے جہنم میں جل رہا ہوں میں
(رئیس امروہوی)
’’دم کشی‘‘ بھی ہمارے دیہی وسیب کے پس منظر میں لکھا گیا افسانہ ہے۔ہمارے دیہاتوں میں کم علمی اور جہالت کی وجہ سے لوگ شعبدہ بازوں اور تصوف کا لبادہ اوڑھ کر مزارات پر بیٹھ جانے والے ڈھونگیوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں اور مشکل اورخون پسینے کی محنت سے کمایا ہوااپنا مال اُن پر لٹانا شروع کر دیتے ہیں۔بعض جنسی درندے تو اُن سادہ لوح دیہاتیوں کی عزتوں کو بھی تاراج کر دیتے ہیں۔ایسا ہی ایک ڈھونگی ’’سید مطلوب شاہ‘‘ ہے۔ جس کو ریاضت کے بعد یہ کمال حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ بہت دیر تک لوگوں کے سامنے اپنا سانس روک کر خود کو مردہ ظاہر کر سکتا ہے۔ایک بار اُس نے اسی طرح ’’دم کشی‘‘ کی اور لوگوں پر خود کو مردہ ظاہر کیا۔ اِس ڈھونگ میں کچھ لوگ اُس کے شریکِ کار بھی تھے۔جنہوں نے اعلان کر رکھا تھا کہ سید مطلوب شاہ ۳۵؍ سال بعد قبر سے (جو دراصل قبر کے ساتھ بنا ہوا خفیہ تہہ خانہ تھا) زندہ باہر آئیں گے، مگر کسی غلطی کی وجہ سے ایسا ہو نہیں پاتا اور ۳۵؍ سال پہلے اُس کا جنازہ پڑھایا نہیں گیا تھا، اب اُس کا جنازہ پڑھانا پڑ جاتا ہے۔
’’یہ دنیا چار دن کی ہے‘‘…ایک صحافی باری باری ایک سماجی خدمت گار، ایک سیاست دان، ایک مذہبی سیاسی جماعت کے رہنما اور ایک ادبی دانش ور کا انٹر ویو کرتا ہے۔ایسے سوالات پوچھتا ہے جو ہر پڑھے لکھے باشعور انسان کے ذہن میں آتے ہیں۔مذکورہ شخصیات کے منافقانہ اور ریا کاری پر مبنی جوابات سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ زر پرست اور اقتدار کے پجاری اِس خوب صورت ملک کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔افسانے کا اختتامیہ نفسِ مضمون یا مرکزی خیال سے مربوط نہیں ہے البتہ افسانہ نگار کا سیاسی، سماجی اور عصری شعوری جوبن پر ہے۔
ہمارے معاشرے میں متوسط طبقہ بڑے دباؤ کا شکار ہے۔اپنی ذمے داریوں کے اعتبار سے ایک شخص کئی خانوں میں بٹا ہوتا ہے۔اُس کے وسائل بے حد کم اور خاندانی ذمے داریاں بے شمار ہوتی ہیں۔ وہ ایک ربوٹ سا بن جاتا ہے جو کہیں بھائی، کہیں بیٹا، کہیں باپ ہے اور ہر ذمے داری اُسے ایک مختلف روپ میں نبھانا پڑتی ہے۔ اس کے پاس وقت صرف اپنی ذات کے لیے نہیں ہوتا۔ سہ ماہی غنیمت ۴؍ میں شامل افسانہ ’’قیدی‘‘ اِسی موضوع پر لکھا گیا ہے۔ افسانے کا ابتدائی حصہ ملاحظہ کیجیے:
’’چھ وردیاں،چھ یونیفارم، چھ طرح کے رقص،چھ اقسام کی پرفارمنس، چھ طرح کے رنگ، چھ طرح کے روپ، چھ قسم کے سوانگ اور بہروپ، وہ چھ کی اذیت میں مبتلا تھا، وہ چھ پھیروں اور چھ چکروں میںآیاہوا تھا۔ہر چکر کا روپ جدا تھا۔نوعیت الگ تھی۔وہ چھ خانوں میں بٹ چکاتھا۔ہرخانے میں جانا بھی ضروری تھا اور ہر خانے کی پرفارمنس بھی الگ تھی۔ہر خانے کی وردی بھی الگ تھی اور سوانگ الگ تھا۔
ہر سوانگ،ہر وردی اور ہر روپ پرعمل کرنا بھی ضروری تھا۔
پہلا خانہ باپ کا تھا۔دوسرا ماں کا،تیسرا بڑے بھائی کا،چوتھا بڑی بہن کا، پانچواں منجھلی بہن کا اور چھٹا چھوٹی بہن کا صرف وہ تھا جس کا کوئی خانہ نہیں تھا۔وہ خانوں کی قید سے آزاد تھا۔‘‘
’’آخری خواہش‘‘ اُن کے مجموعہ ’’آئینہ گر‘‘ کا پہلا افسانہ ہے جس میں ایک روایتی مولوی ’’عبدالکریم‘‘ کے کردار کو موضوع بنایا گیا۔ جو پھانسی کی سزا پانے والے قاتل کے بیٹے کو قرآن پڑھا رہا تھا مگر بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کرتا ہے۔‘‘ وہ اکثر اپنے خطبے میں عورتوں سے متعلق اِس طرح کے خیالات کااظہار کرتا ہے:
’’عورت فتنہ ہے، یہ آدم کو جنت سے نکلوانے والی ہے۔خدا کا وعدہ ہے کہ روزِ قیامت جہنم میں سب سے زیادہ عورتیں جائیں گی کیوں کہ ناقص العقل اور ناقص الدین ہے۔ایمان والے مردو! جس قدر ہو سکے عورت سے بچو۔اُس سے گریز کرو۔یہ اپنی طرف مائل کرتی ہے اور مائل ہونے والوں کو گھائل کرتی ہے۔اِس پر نظر پڑ جائے تو فوراً استغفر اللہ کا ورد کیا کرو تا کہ تمہاری نگاہ پاک رہے۔‘‘
اُن کے کئی افسانے بہت مختصر مگر لا جواب ہیں۔مثلاً ’’کامیابی‘‘ اور ’’قیدی‘‘ افسانہ ’’وجود‘‘ میں افسانہ نگار اپنے ادبی وجود اورعلمی شخصیت کی شناخت نہ ملنے کی وجہ سے ادبی تہذیب اور ماحول سے نالاں ہے۔وہ اپنی دوست سے کہتی ہے کہ لکھے ہوئے لفظ سے زیادہ شخصیت کی اہمیت ہے۔ لفظ کی قیمت شخصیت کو دیکھ کر ادا کی جاتی ہے۔اِس سلسلے میں وہ کالم نگار ’’جاوید چوہدری‘‘ کا نام بھی لیتی ہے۔ یہ ایک مکالماتی افسانہ ہے۔ جس میں افسانہ نگار خاتون اپنی ایک پڑھی لکھی دوست ماریہ سے کہتی ہے کہ میرے الفاظ کو وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جس کے وہ حق دار ہیں۔ماریہ کہتی ہے:’’اوسنو! جس طرح خوب صورت موتی، مالا اور طرح طرح کے ڈیزائنوں کو جنم دیتے ہیں اور ہم ان ڈیزائنوں کو بڑی چاہ سے خرید لاتے ہیں۔ یہی حال لفظوں کا بھی ہے۔لفظوں کو ہُنر سے سجا سنوار کر کوئی بھی شاہکار تخلیق کیا جا سکتا ہے۔میری جان تم بے وجود نہیں ہو اور نہ ہی تمہارے لفظوں نے اپنی شناخت کھوئی ہے۔ صرف تمہارا ہنر بازیافت نہیں ہوا۔تمہیں خود کو ڈھونڈنا ہے،اُس کے بعد اپنے لفظوں کو خوب صورت ڈیزائن دینے ہیں، انہیں خوب صورت مرقعوں میں ڈھالو گی تو یہ جی اٹھیں گے اور جب تمہارے لفظ جی اٹھیں گے تو تم بھی وجود میں آ جاؤ گی۔‘‘
اُنہوں نے تجریدی و نیم تجریدی افسانے بھی لکھے ہیں۔ کئی ایسے افسانے جن میں فکر و فلسفہ کا اظہار ہے، وہ افسانے کم اور مضامین زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔مثلاً ’’تاریخ کا جنم‘‘ جس میں اگرچہ زندگی جیسی اہم اور قیمتی چیز سے متعلق فلسفیانہ طویل مکالمے ہیں مگر پلاٹ کمزور ہونے کی وجہ سے مضمون کا گمان گزرتا ہے۔اگرچہ بیان کیے گئے فلسفیانہ علمی نقاط بہت اہم ہیں مگر انہیں مضمون میں بیان کیا جاتا یا پھر افسانوی اسلوب اپنایا جاتا تو تاثیر میں اضافہ ہو سکتا تھا۔وہ اگر فکر و فلسفہ کو کسی پلاٹ کی مدد سے چھوٹے مکالموں میں ڈھال کر بیان کریں تو کہانی پن کا اسلوب قاری پر گرفت کرے گا۔
’’کبالہ ایک ایسا افسانہ ہے جو غیر ملکی تہذیب و تمدن کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔افسانے کا مرکزی کردار ایک لڑکی ’’کبالہ‘‘ کی جنسی نفسیات کا مطالعہ ہے۔ وہ پہلے جرمنی کے ایک کمیون میں یہودی مذہبی مبلغ ’’حکم یعسوف‘‘ کی شخصیت اور اُس کے اندازِ بیان کے سحر میں مبتلا ہو کر اُس سے جنسی آسودگی چاہتی ہے۔وہ معاملے کو عدالت تک لے جاتی ہے۔سب اُس کا مذاق اُڑاتے ہیں مگر وہ اپنے موقف پر قائم رہتی ہے۔ اِسی دوران اُس لڑکی کو ’’حکم یعسوف‘‘ کا ایک علامتی انداز کا خط موصول ہوتا ہے، جس میں مذہبی عالم ’’حضرت داؤد‘‘ کو علامت کے طور پر استعمال کر کے تہہ داری میں نیم رضا مندی کا اظہار بھی کرتا ہے، اُس کا کردار بھی ہمارے مولوی سے مختلف نہیں ہوتا مگر اُس کا اچانک انتقال ہو جاتا ہے۔بعد ازاں ایک ادا کار کو شاہ سلیمان کی ادا کاری کرتے ہوئے دیکھ کر وہ ’’شاہ سلیمان‘‘ کے عشق میں مبتلا ہو جاتی ہے۔وہ ادا کار جب شاہ سلیمان کے گیٹ اَپ میں اُس کے سامنے آتاہے تو وہ اُس کی طرف بڑھتی ہے اور اُس کی بانہوں میں دم توڑ دیتی ہے۔اِس افسانے میں جنس کے حوالے سے کچھ ایسے سوالات اٹھائے گئے ہیں جو نہ صرف ہمارے ہاں ناقابلِ قبول ہیں بلکہ مصنفہ نے جس معاشرت کو موضوع بنا کر لکھا ہے، اُس میں بھی لوگ اِس بات کو ناپسند کرتے ہیں۔ بہر حال سوچنے اور لکھنے پر پابندی نہیں اور پھر کسی کی بھی کوئی نفسیاتی الجھن ہو سکتی ہے۔جنسی نا آسودگی کے موضوع پر عصمت چغتائی اور بانو قدسیہ نے بھی کچھ خواتین کے کردار کو افسانوں کا موضوع بنایا تھا۔
’’زندگی اور موت کے بیچ کی سیٹی‘‘ افسانہ نگار ایک صاحبِ علم خاتون ہیں۔سوچتا ہوا ذہن افسانوں میں کار فرما محسوس ہو تا ہے۔اِس افسانے میں زندگی اور موت کے فلسفے کے حوالے سے ذاتی المیے کو اجتماعی المیے میں ڈھالنے کی ادیبانہ کوشش ہے۔کچھ حد تک اِس میں کہانی پن بھی ہے مگر کوئی مضبوط پلاٹ نہیں۔ مضمون کا تاثرملتا ہے۔
منزہ احتشام کے افسانوں میں علامت اور کہانی پن کی دونوں روئیں موجود ہیں۔ جب کوئی ڈھکی چھپی بات کہنی ہو، تو وہ علامتوں کا سہارالیتی ہیں۔ تاہم اس سے کہانی پن متاثر نہیں ہوتا۔ یہ خوبی ان افسانوں کو متاثر کن بنا دیتی ہے۔ ’’آئینہ گر‘‘ میں دم کش، کمرے سے کمرے تک اور غلام بنت غلام بھی نمایاں افسانے ہیں۔

Related posts

Leave a Comment