تلاش ۔۔۔۔۔ رات ہے سنسان کتنی اور آوارہ سا چاند چاہتا ہوں آج اپنے واسطے چن لوں اک نیا رستہ کوئی موت! جیسے جھٹپٹاتے سلگتے تاروں کے اندر ٹوٹ کر ذرات بن کر بس رہی ہو فاصلے ہی فاصلے رینگتے پتھر چٹانیں چوٹیاں ہیں روں لاوے کے سیل تڑپتی حوا کی جان جھلستی آدم کی لاش آہ! اپنوں کی تلاش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Read MoreMonth: 2021 مارچ
پریم دت چاند (پریم دت گلاٹی)
الہی ایک بار اُس لب پہ میرا نام آجائے پھر اُس کے بعد چاہے موت کا پیغام آ جائے
Read Moreبسیم (خزانچند)
ہم اہلِ محبت کی تو دنیا ہی جدا ہے شام اور سحر اور فلک اور زمیں اور
Read Moreرنگِ ادب… شمس الرحمان فاروقی نمبر
جناب شاعر علی شاعر کی ادارت میں کتابی سلسلہ ” رنگِ ادب ” کا ” شمس الرحمٰن فاروقی نمبر ” شائع ہو گیا ہے۔ شمارے کی قیمت 2500 روپے ہے۔ شمارہ حاصل کرنے کے لیے رنگ ادب پبلی کیشنز، کراچی سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
Read Moreضیا فتح آبادی ( مہر لال سونی)
تخلیقِ کائنات کا باعث ضرور تھا سمجھا اگر نہ میں تو یہ میرا قصور تھا
Read Moreمظہر نسیم (مظہر احمد صدیقی)
مانا کہ ہر قدم پہ اجل سے ہے سابقہ لیکن چراغِ زیست جلائے ہوئے تو ہیں
Read Moreجانباز پانی پتی (ستیہ پال)
شکوہ نہیں زیبا آپس میں اس ترکِ تعلق کا باعث کچھ تم بھی ہو کچھ ہم بھی ہیں تصویر کے دونوں رخ دیکھو
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ ویران کر دیا بھرا جنگل پڑائو نے
ویران کر دیا بھرا جنگل پڑائو نے رکھا ہے دل میں سبز قدم کس لگائو نے بے لطف دوستی کے سفر نے تھکا دیا ساحل پہ دے کے مارا بھنور سے جو نائو نے اے دوست! زخم تہمتِ تازہ لگا کہ پھر سرسبز کر دیا ہے شجر سکھ کے گھائو نے ان قربتوں کا ہدیۂ اخلاص کچھ تو دے خوش بخت کر دیا تجھے جن کے لگائو نے اُن پستوں کو روح کی نزدیکیوں سے دیکھ کاٹا ہے جن کو دل کی ندی کے بہائو نے…
Read Moreشاہد ماکلی… چراغاں ہے ، گل پوش رستے ہیں ، پرچھائیاں ہم قدم ہیں
چراغاں ہے ، گل پوش رستے ہیں ، پرچھائیاں ہم قدم ہیں ہواؤں کا مارا ہوا ساحلی شہر ہے اور ہم ہیں نگر کی چکا چوند سے دُور غاروں میں آ بیٹھتا ہوں جہاں عہدِ رفتہ کی تہذیب کی داستانیں رقم ہیں خیالات و خواب و خبر کی رسائی ہے عالم بہ عالم وہاں سے میں گزرا نہیں ہوں، جہاں میرے نقشِ قدم ہیں عجب منطقہ ہے، جہاں دن سے رات اِس طرح مل رہی ہے اُجالے اندھیروں میں ضم ہیں،اندھیرے اُجالوں میں ضم ہیں مرے دل میں ہی موسموں…
Read Moreاحمد فراز … اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں
اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں زندگی تیری عطا تھی سو ترے نام کی ہے ہم نے جیسے بھی بسر کی تِرا احساں جاناں دل یہ کہتا ہے کہ شاید ہو فسردہ تُو بھی دل کی کیا بات کریں دل تو ہے ناداں جاناں (ق) اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر بے پیے بھی ترا چہرہ تھا گلستاں جاناں…
Read More