رفعت وحید ۔۔۔ بس اتنا چاہتی ہوں وصل کی اک رات حاصل ہو

بس اتنا چاہتی ہوں وصل کی اک رات حاصل ہو مری آنکھوں کو تیرے نور کی سوغات حاصل ہو مرے اندر جو رہتا ہے مخاطب ہو کبھی مجھ سے اکیلی چل رہی ہوں میں کسی کا ساتھ حاصل ہو میں تیاگی ہوں مرے اندر کوئی ارماں نہیں باقی بجز اس کے کہ قربِ اصل ِموجودات حاصل ہو میں اپنے آپ میں رہتی ہوں خود کو جانتی کب ہوں پتہ کچھ تو چلے کچھ تو سراغِ ذات حاصل ہو حیات و موت کے چکر سے چھٹکارا نہیں مشکل اگر کچھ طاقتِ…

Read More

شاہد فرید ۔۔۔ دوا ہے نے کوئی چارہ گری ہے

دوا ہے نے کوئی چارہ گری ہے دعائوں میں نجانے کیا کمی ہے جہاں میں نے بہت مدت گزاری وہی اک شہر مجھ سے اجنبی ہے بظاہر مسکراتا ہے وہ چہرہ مگر، آنکھوں میں ٹھہری جو نمی ہے اسیری سے رہائی ہو مبارک مگر مشکل بہت یہ زندگی ہے وہی دنیا سمیٹے پھر رہے ہیں جو کہتے ہیں یہ دنیا عارضی ہے اسی پر شہر سارا مر مٹا ہے تمھارے حُسن میں جو سادگی ہے زمانے میں دیے بانٹے ہیں جس نے اُسی کے گھر میں ہرسو تیرگی ہے سمجھ…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ اسد رضا سحر

تمہارے در پہ جھکی ہے جبینِ حرف وصدا ’’مہ و نجوم سے پُر ہے زمینِ حرف و صدا ‘‘ تری عطا کے سبب لوگ جان لیتے ہیں کہاں کہاں پہ جڑے ہیں نگینِ حرف و صدا میں جب سے لوٹ کے آیا ہوں کربلا سے مجھے بلا رہے ہیں مسلسل مکینِ حرف و صدا جو لے کے آتا ہے پیغام کبریائی کا وہ جبرئیل ہے تیرا امینِ حرف و صدا درود پڑھنے سے مشکل کشائی ہوتی ہے اسی پہ ہے مرا کامل یقینِ حرف و صدا ورود تجھ پہ ہوا…

Read More

عدنان خالد ۔۔۔ وہ ہم کو عشق میں ایسا نڈھال کردے گا

وہ ہم کو عشق میں ایسا نڈھال کردے گا کہ حوصلہ ہمیں کاسے میں ڈال کردے گا کھرچتے وقت اسے میں نے یہ نہیں سوچا پرانا زخم نئی شرٹ لال کردے گا وہ اپنے جسم کے خلیوں سے یوں کرے گا بات لپٹ کے مجھ سے تکلم بحال کر دے گا میں جانتا ہوں کہ برباد ہونے کا موقع وہ اپنے آپ سے مجھ کو نکال کر دے گا میں اس کے سامنے آیا تو لازماً عدنان وہ لاجواب سا کوئی سوال کردے گا

Read More

عدنان خالد ۔۔۔ وہ مصلحت کی حویلی کا اک مکین مجھے

وہ مصلحت کی حویلی کا اک مکین مجھے دلاتا رہتا ہے سچ کا بہت یقین مجھے ہر ایک بات میں کرتے ہو طنز بھی شامل ہر ایک بات پہ کہتے ہو نکتہ چین مجھے کیا ہے جب سے تعین خود اپنی قیمت کا میں ان کو کوستا رہتا ہوں صارفین مجھے میں آسماں سے اسے گھر سمجھ کے تکتا رہا ستارہ زاد سمجھتی رہی زمین مجھے سبق جو یاد کرایا تھا تجھ کو یاد ہے کیا؟ کہ پھر چڑھانی پڑے گی یہ آستین مجھے

Read More

اسد رضا سحر ۔۔۔ مشکل سہی وجود سے باہر نکل کے آ

مشکل سہی وجود سے باہر نکل کے آ زندان کی حدود سے باہر نکل کے آ مجھ پر یہ لفظ ہُو بھی ابھی تک نہیں کھلا واعظ ذرا سجود سے باہر نکل کے آ پہنے ہوئے ہیں سب نے یہاں پر سیہ لباس مطرب تو اب سرود سے باہر نکل کے آ کرتا ہے خود کو کس لیے روپوش سائیاں اک بار اس جمود سے باہر نکل کے آ حر سا مقام تجھ کو ملے گا اے جنگجو باطل کے تو جنود سے باہر نکل کے آ

Read More

عمران اعوان ۔۔۔ یہی تو سوچ کے ہلکان تھا میں سارا دن

یہی تو سوچ کے ہلکان تھا میں سارا دن کہ میرے بعد بھی کٹتا رہا تمہارا دن مجھے پتہ ہے ترا فلسفہ ضرورت ہے اسی لیے تو مرے بعد بھی گزارا دن ہم آج شام سے پہلے نہ لوٹ پائیں گے کہاں یہ لمبا سفر اور ، کہاں ہمارا دن ہم اہل ہجر ہیں راتوں کو جاگنے والے ہمارے واسطے تو نے نہیں اتارا دن ہمیں بھی وصل کے لمحے عزیز ہیں، جاناں! ہمیں بھی زندگی سے دے کوئی ادھارا دن حسین لگنے لگی ہے تمام دنیا مجھے تمہاری آنکھ…

Read More

راحت سرحدی ۔۔۔ ہونی تو پلٹ دیتی ہے کایا نہیں دیکھا

ہونی تو پلٹ دیتی ہے کایا نہیں دیکھا کیا تم نے کبھی شام کو سایا نہیں دیکھا چکر وہ چڑھے ہیں جو اترتے نہیں لگتے کیا اس نے نگاہوں سے پلایا نہیں دیکھا اس خواب سرائے کے دکھاوے میں نہ آنا بس ایسا سمجھنا جو دکھایا نہیں دیکھا ہمراہ کہیں میں نے برے وقت میں اپنے لوگوں کو تو چھوڑو کبھی سایا نہیں دیکھا یاروں نے تو منزل پہ پہنچ کر بھی پلٹ کر اس دوڑ میں کس کس کو ہرایا نہیں دیکھا آتے ہیں نظر عرش کو چھوتے ہوئے…

Read More

شفیق احمد خان ۔۔۔ لاکھ خاموش رہوں پھر بھی یہ غم بولتا ہے

لاکھ خاموش رہوں پھر بھی یہ غم بولتا ہے دل فسردہ ہو تو خود آنکھ کا نم بولتا ہے اُس کے لہجے سے جھلکتی ہے کہانی اُس کی اُس کے چہرے پہ لکھا جور و ستم بولتا ہے وہ تو حیرت سے نکلنے نہیں پاتا پل بھر ساتھ چلتا ہے تو ہر ایک قدم بولتا ہے بات کرتا ہے کسی تلخ لب و لہجے میں جب رگ و پے میں کسی یاد کا سم بولتا ہے شعر خوں بن کے رگِ جاں میں اُتر جاتے ہیں درد لفظوں کا سرِ…

Read More

مولا یا صلِ وسلم ۔قصیدہ ء بردہ شریف:  ترجمہ نگار : سید عارف معین بلے

مولا یا صلِ وسلم ۔قصیدہ ء بردہ شریف  ترجمہ نگار : سید عارف معین بلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (1) جَل اُٹھی کیا شمعِ یادِ دوستانِ ذی سَلَم خونِ دل بہنے لگا آنکھوں سے میری ایک دم (2) جھونکا کوئے کاظمہ سے آیا ہے یا پھر حضور بجلی چمکی، ہوگیا روشن شبستانِ اِضَم (3) ہو گیا کیا؟ جو تری آنکھوں سے جاری ہے جھڑی کیا ہوا ہے؟ دل پہ کیا ٹوٹا ترے کوہِ ستم (4) چُھپ نہیں سکتی محبت‘ ہے عبث تیرا خیال ہے ترے سوزِ دروں کا آئینہ یہ چشمِ نم (5)…

Read More