احمد سجاد بابر ۔۔۔ کچھ دن چھاتی بھیتر رکھ کر دیکھو تو کچھ روگ میاں

کچھ دن چھاتی بھیتر رکھ کر دیکھو تو کچھ روگ میاں پھرخود ہی پتہ لگ جائے گا، کیوں لیتے ہیں جوگ میاں کب یہ دنیا روک سکی ہے رستہ ٹھنڈی چھائوں کا دیواروں سے اُگ آتے ہیں پیپل جیسے لوگ میاں سُکھ چھایا کے یار زمانے وقت کا گبند چھوڑ گئے اب مانس کو مانس کھائے،دھرتی اُگلے سوگ میاں پیت نگر کے کانٹوں کو ،ان جلتے بلتے چھالوں کو پھول اور تارہ جس نے جانا ، انت ملاسنجوگ میاں ریت پہ انگلی پھیر ی بابر ، اک مُورت سی آپ…

Read More

راجہ عبدالقیوم ۔۔۔ خواب در خواب

چل رہی ہے بڑے انداز سے آہستہ خرام لگ رہا ہے ترے کوچے سے صبا آئی ہے یوں مہک اُٹھا ہے گھر کا میرے گوشہ گوشہ جیسے اُٹھ کر ترے پہلو سے بہار آئی ہے پھول چن کر ترے پہلو سے ابھی لائی ہے کس نے دیکھا ہے کہ تارے بھی چمک اُٹھے ہیں چاند بھی جیسے سرِ بام اُتر آیا ہے ایک منظر جو تہہِ خواب تھا آسودہ کہیں اب حقیقت کی طرح مجھ کو نظر آیا ہے خواب در خواب پسِ عکس جو منظر ابھرا لاکھ چاہوں بھی…

Read More

وسیم جبران ۔۔۔ منہ پہ سورج نے خوں ملا ہوا تھا

منہ پہ سورج نے خوں ملا ہوا تھا مجھ سے جس شام وہ جدا ہوا تھا مجھ کو بس تُو دکھائی دیتا تھا ایسا جادو ترا چلا ہوا تھا میرا غصہ شدید تھا لیکن تُو بھی حد سے ذرا بڑھا ہوا تھا پھر مری جیت تو یقینی تھی تُو مرے ساتھ جب کھڑا ہوا تھا ایک بھونچال سے ذرا پہلے اک پہاڑی پہ گھر بنا ہوا تھا میری آنکھیں چھلکتی جاتی تھیں دل محبت سے جب بھرا ہوا تھا ہم سفر میں رہے سدا جبرانؔ راستا پائوں میں پڑا ہوا…

Read More

وسیم جبران ۔۔۔ فکر و شعر و بیان میں آیا

فکر و شعر و بیان میں آیا ایک بس تُو ہی دھیان میں آیا نخل مایوس ہونے والا تھا ابر جب آسمان میں آیا دل میں کتنے چراغ جل اٹھے کون میرے مکان میں آیا اب کہانی بدلنے والی ہے تُو مری داستان میں آیا جس کا کوئی جواب ہی نہ بنے وہ سوال امتحان میں آیا گھونسلہ اُس کو دیکھتا ہو گا جب پرندہ اڑان میں آیا مجھ پہ برگد نے کھول دی شاخیں اور میں سائبان میں آیا

Read More

راجہ عبدالقیوم ۔۔۔ سوچنا بھی محال ہے یارو

سوچنا بھی محال ہے یارو اُس کو میرا خیال ہے یارو کیا مجھے وہ بھی یاد کرتا ہے اِس کا اب کیا سوال ہے یارو وہ رہے خوش مگر ہمارے لیے زندگی کیا، وبال ہے یارو اپنی راہوں پہ لا کے چھوڑ گیا یہ بھی اُس کا کمال ہے یارو درد بھی اُس نے بے مثال دئیے وہ جو اپنی مثال ہے یارو

Read More

شہزاد احمد شیخ ۔۔۔ جیتے جی اعلان میری موت کا ہوتا ر ہا

جیتے جی اعلان میری موت کا ہوتا ر ہا اِک ہجومِ دوستاں میرے لیے روتا رہا بارہا شہزاد ؔ میرے ساتھ یہ ہوتا رہا جاگنا تھا جِس گھڑی ، میں اُس گھڑی سوتا رہا پہلے تو جتنے گلے تھے سارے اُس نے کر دئیے پھر مِرے سینے سے لگ کر رات بھر روتا رہا ہائے کیسا راستہ اب کے کیا تھا اِختیار کارواں لُٹتا رہا ، اور رہنما سوتا رہا مجھ سے تنہائی میں اکثر بات کرنے کے لیے میرے کمرے میں مِرا اِک پالتو توتا رہا دوستوں کے گل…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ عباس عدیم قریشی

نگاہ کن کہ فضائے دروں کبیدہ ہے کمال لطف حضور آپ کا شنیدہ ہے حضور ظرف بھی مل جائے بھیک کے شایاں حضور دامن اوقات ما دریدہ ہے ہوا لذائذ عالم سے وہ تو مستغنی حضور آپ کے غم کا جو دل چنیدہ ہے کہاں اٹھاتے ہیں سر ، اہل سر جو ہیں ان کے غرور عشق گدایان در خمیدہ ہے زباں سے کہنا ضروری نہیں عدیم یہاں ہر ایک اشک مرے کیف کا جریدہ ہے

Read More

نوید صادق ۔۔۔ ہجومِ یاس تھا ، بے داریاں تھیں اور مَیں تھا

ہجومِ یاس تھا ، بے داریاں تھیں اور مَیں تھا کوئی گذشتہ کی چنگاریاں تھیں اور مَیں تھا سفر تھا اور سفر بھی عجیب دشت کا تھا قدم قدم نئی دُشواریاں تھیں اور مَیں تھا یہ اور بات ، کسی سے بھی کچھ نہ کہہ پایا عجیب رنگ کی سرشاریاں تھیں اور مَیں تھا مجھے بھی ٹھیک سے اب یاد تو نہیں ، ویسے بس اک جدائی کی تیاریاں تھیں اور مَیں تھا چلا تو خود سے ذرا ہٹ کے ہی چلا مَیں بھی کہ شہر بھر کی نگہداریاں تھیں…

Read More

رفیع الدین راز ۔۔۔ کھل گیا شاید لبوں پر تشنگی کا ذائقہ

کھل گیا شاید لبوں پر تشنگی کا ذائقہ خون کی ہر بوند میں ہے زندگی کا ذائقہ خود ستائش کے جلو میں، آگہی کے زعم میں بارہا چکھا ہے میں نے گمرہی کا ذائقہ تیرگی میں، ماہ و انجم کی ضیا بڑھ جاتی ہے غم کی قربت سے نکھرتا ہے خوشی کا ذائقہ گمرہی کے روز و شب کاٹے ہیں میں نے مجھ سے پوچھ جاںفزا ہوتا ہے کتنا آگہی کا ذائقہ خیمۂ صبر و قناعت میں بھی بیٹھو دو گھڑی چکھ کے تو دیکھو کبھی اس سادگی کا ذائقہ…

Read More

شاعر علی شاعر ۔۔۔ بعد مدت کے بچھڑ جانے کا موسم آیا

بعد مدت کے بچھڑ جانے کا موسم آیا پھر دلِ وحشی کے گھبرانے کا موسم آیا نخرے ساقی ترے برداشت کریں گے پھر سے پھر ترے جام کا، میخانے کا موسم آیا کتنی مشکل سے بسایا تھا دلِ ویراں کو وائے قسمت کہ اُجڑ جانے کا موسم آیا اب مرے زخم ہرے ہونے لگے ہیں، دل بر! اب میں سمجھا کہ ترے آنے کا موسم آیا آ کہ گلشن پہ بہاروں نے جمایا قبضہ آ کہ روحوں میں اُتر جانے کا موسم آیا دیکھ راحت کی طلب میں وہ چلا…

Read More