خالد علیم ۔۔۔ رباعیات

رباعیات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کہ سمٹتی ہی چلی جاتی ہے رشتوں کی تڑپ کس کو تڑپاتی ہے صدیوں کی خامشی ہے اپنوں کو محیط موجود میں محشر کی صدا آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنی بھی نہ کر حکایتِ شوق دراز تارِ رگِ جاں سے جل اُٹھے نغمۂ ساز آنسو ٹپکیں تو جسم و جاں جلنے لگیں سانسیں ٹوٹیں تو ٹوٹ جائے آواز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دھوکا ہے، سراب ہے؟ سزا ہے؟ کیا ہے؟ آئینہ ہے سامنے، خفا ہے؟ کیا ہے؟ خود پر ہی بار بار پڑتی ہے نظر میں ہوں؟ تُو ہے؟ کوئی یا…

Read More

بورخیس/محمد عاصم بٹ ۔۔۔ ڈیوچز ریکیوم

ڈیوچز ریکیوم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے مجھے قتل کرڈالاتو کیا پھر بھی میں اس پر بھروسہ کروں۔جاب ۱۳:۱۵ میرا نام اوٹو ڈیٹرچ زرلندے ہے۔ میرے آبائو اجداد میں سے ایک کرسٹوف زر لندے گھڑ سوار فوج کے حملے میں مارا گیا جوزوندروف کی فتح پر منتج ہوا تھا۔میرا پرنانا الرچ فارکل۱۸۷۰ کے اواخر میں مارکینائر کے جنگل میںفرانسیسی نشانے بازوں کے ہاتھوں گولی لگنے سے ہلاک ہوا۔ میرے باپ کپتان ڈیٹرچ زر لندے نے ۱۹۱۴ء میں نامرکے محاصرے اورپھردو سال بعد دریاے ڈینیوب پار کرتے ہوئے اپنی بہادری کا لوہا منوایا۔…

Read More

خورشید ربانی ۔۔۔ چشمِ یقیں سے دیکھیے وہم و گماں آئینہ ہے

چشمِ یقیں سے دیکھیے وہم و گماں آئینہ ہے روشن ہے کوئی عکسِ گل ورنہ کہاں آئینہ ہے دریا کی اتنی کج روی ساحل کی اتنی بے رخی تم پر کوئی رنگِ ہوا اے بادباں آئینہ ہے؟ دیکھا ہے جس نے رات کا پردہ اٹھا کر دن کبھی اُس پر یقیں آئینہ ہے، اُس پر گماں آئینہ ہے سنتا ہے کوئی کب یہاں دریا کا شورِ خامشی لیکن ہمارے دل پہ تو موجِ رواں آئینہ ہے کس کا ہدف ہے میرا دل کس کا ہدف ہے میری جاں مجھ کو…

Read More

جاوید قاسم ۔۔۔ دوستو! دُور کی آواز بھی ہو سکتی ہے

دوستو! دُور کی آواز بھی ہو سکتی ہے کیا حقیقت نظر انداز بھی ہو سکتی ہے آ بھی سکتا ہے میسر کوئی تازہ جھونکا ہم پہ وہ کھڑکی کبھی باز بھی ہو سکتی ہے ٹھنڈے دل سے ذرا سوچیں تو یہ منہ پھٹ دُنیا دوست ہو سکتی ہے، ہم راز بھی ہو سکتی ہے عکسِ خاموش کو آواز بنانے والی آئینے میں مری آواز بھی ہو سکتی ہے ہو بھی سکتا ہے فلک اپنے کیے پر نادم دوستی صورتِ آغاز بھی ہو سکتی ہے کیا عجب ہے کبھی یزداں سے…

Read More

حبیب الرحمٰن مشتاق ۔۔۔ خموشیوں کی کسی بھی صورت لحاظ داری نہیں کریں گے

خموشیوں کی کسی بھی صورت لحاظ داری نہیں کریں گے ہم اپنے کمرے کے منظروں پر سکوت طاری نہیں کریں گے پڑی ضرورت تو اپنے سر کو اتار پھینکیں گے راستے میں سفر میں شانوں کے بوجھ کو ہم زیادہ بھاری نہیں کریں گے اب ایک ماتم ہے اِس کنارے اور ایک ماتم ہے اُس کنارے اگرچہ طے یہ ہوا تھا بچھڑے تو آہ و زاری نہیں کریں گے سخن سرائی میں اپنے پُرکھوں کی ہم روایت کے ہیں محافظ سنیں گے طعنے ہر اک کے لیکن زباں کو آری…

Read More

امر مہکی ۔۔۔ انائونسر نے کہا ، انتظار ختم ہوا

انائونسر نے کہا ، انتظار ختم ہوا سفر شروع ہوا ، انتظار ختم ہوا شدید حبس میں گھُٹنے لگا تھا میرا دم مہکتا جھونکا چلا ، انتظار ختم ہوا سُراغ جس کا کہیں مِل نہیں رہا تھا مجھے مِلاہے اُس کا پتا ، انتظار ختم ہوا اِک اجنبی نے سرِ راہ مسکراہٹ دی مجھے تب ایسا لگا ، انتظار ختم ہوا میں اُ س گلی میں اِدھر سے اُدھر ٹہلتا رہا پھر اِک دریچہ کُھلا، انتظار ختم ہوا میں اِک زمانے سے جس پل کا منتظر تھا امر وہ لمحہ…

Read More

صفدر صدیق رضی ۔۔۔ 1985

ہر شخص خیال و خواب ہوا ہر چہرہ نقش بر آب ہوا ہر شعلۂ گل برفاب ہوا ہم جن کے لیے بدنام ہوئے وہ سارے عشق تمام ہوئے اب موجِ ہوا کا ساتھ نہیں وہ ابر نہیں برسات نہیں وہ چاند نہیں وہ رات نہیں کام آئے یا ناکام ہوئے وہ سارے عشق تمام ہوئے دامن پر کوئی داغ نہیں اب طاق میں کوئی چراغ نہیں اس دل کا کہیں سراغ نہیں جس کے افسانے عام ہوئے اب سارے عشق تمام ہوئے اب اور کسی کا ساتھ نہیں اب ہاتھ…

Read More

افتخار شاہد ۔۔۔ فقیروں کی صداؤں سے کُھلا ہے

فقیروں کی صداؤں سے کُھلا ہے فقیروں کو یہ در اچھا لگا ہے ثمر کے بوجھ سے شاخیں جھکی ہیں پرندوں کو شجر اچھا لگا ہے پسِ پردہ تمہارا ڈانٹنا بھی مرے بیدادگر اچھا لگا ہے وہ سب کے حال سے واقف ہے لیکن بظاہر بے خبر ! اچھا لگا ہے تری بے فیض بستی سے نکل کر بھٹکنا دربدر اچھا لگا ہے کشیدہ قامتی پسرِ علی کی سرِ نیزہ وہ سر اچھا لگا ہے اگرچہ آئنے چٹخے پڑے ہیں مگر وہ دیدہ ور اچھا لگا ہے دیا جو طاق…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ اکرم ناصر

ہو مجھ کو عطا اذنِ ملاقات نبی جی کرنا ہے مجھے آپ سے اک بات نبی جی رہتا ہوں شب و روز میں اک خوف کی زد میں دھڑکا سا لگا رہتا ہے دن رات نبی جی چھٹتے ہی نہیں دل سے مرے درد کے بادل رکتی ہی نہیں آنکھ کی برسات نبی جی کب تک ہمیں پسنا ہے یونہی غیر کے ہاتھوں کب تک نہیں بدلیں گے یہ حالات نبی جی چالاک بہت ہیں تری امت کے یہ دشمن کر جائیں نہ امت سے کوئی ہاتھ نبی جی

Read More