دھک دھک دھک دھک تھی آواز دل نے تجھ کو دی آواز کانوں میں رس گھولتی ہے تیری کوئل سی آواز ہونٹوں کی چُپ ٹوٹ گئی آنکھوں نے جب دی آواز تبدیلی اب آنے دو ہے یہ خلقت کی آواز پہلے بھی تو گونجی تھی بالکل ایسی ہی آواز مجھ کو میرا وہم لگا اس نے بھی سن لی آواز اک دن گُم ہو جائے گی ارشد تیری بھی آواز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچا پھل تھا اونچی شاخ کیسے ہاتھ میں آتی شاخ آخر ایندھن بنتی ہے بوڑھے پیڑ کی سوکھی شاخ…
Read MoreMonth: 2021 اکتوبر
انصر حسن ۔۔۔ جناب امیر (مولا علیؑ) کے حضور
کرتا ہوں اجتناب کہ بندہ علی کا ہوں پیتا نہیں شراب کہ بندہ علی کا ہوں دنیا و دیں کے اور حیات و ممات کے کھلتے ہیں مجھ پہ باب کہ بندہ علی کا ہوں مخفی نہیں ہے کوئی بھی میرا معاملہ میں ہوں کھلی کتاب کہ بندہ علی کا ہوں دنیا کے ساتھ ساتھ میں اپنا بھی دوستو کرتا ہوں احتساب کہ بندہ علی کا ہوں کچھ بھی کہیں یہ لوگ پہ میری نگاہ میں دنیا ہے اک سراب کہ بندہ علی کا ہوں
Read Moreاکرم ناصر ۔۔۔ لیتا ہے تیرا کیا بھلا بوڑھا شجر نہ کاٹ
لیتا ہے تیرا کیا بھلا بوڑھا شجر نہ کاٹ اس پر ہیں دیکھ کتنے پرندوں کے گھر نہ کاٹ اچھا ہے کام ، شوق سے پودے نئے لگا لیکن خدا کا نام ، تناور شجر نہ کاٹ کرنے دے انحصار سبھی کو اڑان پر منصف ہے تو،کسی بھی پرندے کے پر نہ کاٹ اکرم خدا کا نام کہیں گھر بنا کے بیٹھ جیون سفر کو اس طرح تو در بدر نہ کاٹ
Read Moreظہور چوہان ۔۔۔ اُس گھر کی خموشی دیدنی تھی
اُس گھر کی خموشی دیدنی تھی آواز کسی کی گونجتی تھی زخموں سے بدن تھا چُور میرا آنکھوں میں تھکن شکست کی تھی میں بُجھتا ہوا دِیا تھا لیکن ہر سمت مری ہی روشنی تھی رہرو سے بچھڑ رہے تھے رستے اور پاؤں سے خاک اُڑ رہی تھی جاگا ہوا تھا وجود اُس کا وہ پاس مرے کھڑی ہوئی تھی پہچان نہیں سکا میں اُس کو اک دم وہ قریب آ گئی تھی میں چھوڑ گیا ظہور خود کو اور مجھ میں وہ بیٹھی رو رہی تھی
Read Moreقمر رضا شہزاد
لہو سے گوندھنے والے کو بھی کہاں معلوم یہ خاک کون سی صورت میں ڈھلنے والی ہے
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ نئے بیانئے ارشاد کر دیے گئے ہیں
نئے بیانئے ارشاد کر دیے گئے ہیں کچھ اور ولولے برباد کر دیے گئے ہیں ہمیشہ ایک ہی تدبیر آزمائی گئی وفا کے قافلے افراد کر دیے گئے ہیں فرو ہوئی ہے بغاوت تو شہ کی جانب سے اطاعتوں کے ثمر لاد کر دیے گئے ہیں نصاب میں تھے جو عشق و جنوں کے افسانے وہ حرص و آز کی روداد کر دیے گئے ہیں اٹھا رہے تھے جو شہرِ صعود کی بنیاد وہ سب نشانۂ افتاد کر دیے گئے ہیں جو صاحبانِ سلوک و عطا تھے بستی میں سپردِ…
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ کدھر کھلتا ہے در کوئی
کدھر کھلتا ہے در کوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گزرتا ہی نہیں ہے وقت جبری چھٹیوں کا ایک اک لمحہ صدی جیسا گھریلو کھیل کوئی کب تلک کھیلے کسی تقریب میں شرکت تو کیا گھر سے نکلنے کی اجازت ہی نہیں ہے اپنے پیاروں کے بھی چہروں سے دل اکتانے لگے ہیں بھولتے جاتے ہیں سب آداب جو تہذیب کا حاصل تھے سرمایہ تھے خوش آہنگ بہتی زندگی کا فاصلہ تو فاصلہ ہے صرف جسموں تک نہیں رہتا اتر جاتا ہے روحوں میں ملاقاتوں کے آئینے چِھنے تو اپنی پہچانیں بھی کھو بیٹھے…
Read Moreقابل اجمیری
میخانہ بھی اک کارگہِ شیشہ گری ہے پیمانہ کہیں ٹوٹ کے تلوار نہ ہو جائے
Read Moreاختر حسین جعفری ۔۔۔ امتناع کا مہینہ
امتناع کا مہینہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس مہینے میں غارت گری منع تھی، پیڑ کٹتے نہ تھے، تیر بکتے نہ تھے بہرِ پرواز محفوظ تھے آسماں بے خطر تھی زمیں مستقر کے لیے اس مہینے میں غارت گری منع تھی یہ پرانے صحیفوں میں مذکور ہے قاتلوں، رہزنوں میں یہ دستور تھا، اس مہینے کی حرمت کے اعزاز میں دوش پر گردنِ خم سلامت رہے کربلاؤں میں اترے ہوئے کاروانوں کی مشکوں کا پانی امانت رہے میری تقویم میں بھی مہینہ ہے یہ اس مہینے کئی تشنہ لب ساعتیں، بے گناہی کے…
Read Moreمصطفیٰ زیدی ۔۔۔ صنم خانے
صنم خانے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سچ یہ ہے کہ وہ غم بھی رہا شاملِ امروز جس غم میں نہ تخلیق، نہ تعمیر ،نہ پرواز جو گنبدِ آفاق کی ہمرَاز رہی تھی دیوار سے ٹکرا کے پلٹ آئی وہ آواز اب سنگِ سُبک مایہء زنداں بھی نہیں ہیں آئینہء زلف و لب و مژگاں تھے جو الفاظ جس طبع کے دامن میں تھے اٹھتے ہوئے خورشید وہ ڈوبتے مہتاب کی کرنوں سے بھی ناراض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے نزہتِ مہتاب! امروز، کہ سڑکوں کے چراغاں میں کٹا تھا امروز، کہ تھا رنگ و رُخ و نور…
Read More