حمایت علی شاعر ۔۔۔ ایشیا

ایشیا۔۔۔۔۔۔آخرش جاگ اُٹھا وقت کا خوابیدہ شعورشب کے پروردہ اندھیروں کا فسوں ٹوٹ گیااِک کرن پھوٹ کے چمکا گئی مشرق کا نصیبدستِ اوہام سے ہر دامنِ دل چھوٹ گیاکل تلک سرد تھی جن ذروں کے احساس کی آگآج تپ تپ کے وہ خورشید ہوئے جاتے ہیںجن کو روندا گیا صدیوں وہی مجبور عوامانقلابات کی تمہید ہوئے جاتے ہیںلاکھ پھینکے شبِ تاریک سویرے پہ کمندکارواں صبح کا بڑھتا ہی چلا جائے گااپنے ہمراہ لیے سینکڑوں کرنوں کا جلوسوسعتِ عالمِ آفاق پہ چھا جائے گا

Read More

افتخار شاہد ۔۔۔ ترے انکار سے، اقرار سے ڈر لگتا ہے

ترے انکار سے، اقرار سے ڈر لگتا ہے دھوپ سے، سایۂ دیوار سے ڈر لگتا ہے نیند آتی ہے تو سونے نہیں دیتا خود کو خواب اور خواب کے آزار سے ڈر لگتا ہے ہم تو اپنوں کی عنایت سے پریشاں ہیں میاں کب ہمیں شورشِ اغیار سے ڈر لگتا ہے روز بڑھ جاتی ہے کچھ درجہ گھٹن سینے کی روز کٹتے ہوئے اشجار سے ڈر لگتا ہے اب کہاں کوئی خریدار زلیخا جیسا اس لیے مصر کے بازار سے ڈر لگتا ہے آپ کو کیسے خریدار بھلے لگتے ہیں…

Read More

لبنیٰ صفدر ۔۔۔ کُھل نہ پایا ہے راستہ مجھ پر

کُھل نہ پایا ہے راستہ مجھ پر اس نے باندھا ہے فاصلہ مجھ پر بارہا آئنے میں دیکھا ہے عکس میرا نہیں، کھلا مجھ پر میری پوشاک کتنی اُجلی تھی تُو نے الزام دھر دیا مجھ پر کُھل گئی اپنے آپ پر جب میں منکشف تو بھی ہو گیا مجھ پر زندگی کی غزل ادھوری ہے کتنا بھاری ہے قافیہ مجھ پر ذکر کرنا نہیں محبت کا یہ بھی تھا ایک سانحہ مجھ پر ہجر میں کیسی ہوگئی حالت طنز کرتا ہے آئنہ مجھ پر آتے جاتے ہی دیکھ لیتے…

Read More

تاثیر نقوی ۔۔۔ جھیل جیسی مجھے لگیں آنکھیں

جھیل جیسی مجھے لگیں آنکھیں حال مجھ سے مِرا کہیں آنکھیں اُس کی خوشبو سمٹنے لگتی ہے مُجھ سے جب گفتگو کریں آنکھیں یہ مِری روح کی امانت ہیں دُکھ جہاں بھر کے کیوں سہیں آنکھیں ایک دوجے سے کیسے ملنا ہے مُجھ سے چھُپ چھُپ کے یہ کہیں آنکھیں دِل کی حالت عجیب ہوتی ہے آگ کی طرح جب جلیں آنکھیں حالِ دِل کی اُنھیں خبر ہو جائے وُہ اگر غور سے پڑھیں آنکھیں کاش یہ معجزہ بھی ہو جائے میری جانب تِری بڑھیں آنکھیں تاک میں ہوں میں…

Read More

عاطف جاوید عاطف ۔۔۔ کبھی لَو بڑھی تری یاد سے ،کبھی خط پکڑ کے جلا دیا

کبھی لَو بڑھی تری یاد سے ،کبھی خط پکڑ کے جلا دیا کبھی شِدّتِ غمِ ہجر سے ترا نام لکھ کے مٹا دیا مرے مُرشدی ترے بعد دل کسی اور کا نہیں ہو سکا کہ پُجاریوں میں یہ رِیت ہے جو چڑھا دیا سو چڑھا دیا مری خاک کو نہیں چاہ اب، رہی دوسرے کسی چاک کی مرے کوزہ گر ترے ہاتھ نے جو بنا دیا سو بنا دیا دلِ سوختہ کا وہ داغ ہو یا وہ منتوں کا چراغ ہو ترے نام پر ترے بام پر جو جلا دیا…

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ کسی عشق میں مبتلا آدمی ہوں

کسی عشق میں مبتلا آدمی ہوں تو مطلب یہ ہے، لادوا آدمی ہوں زمیں نے کوئی قدر میری نہیں کی کہ میں آسماں سے گرا آدمی ہوں گنہ گار لوگوں نے دی ہے گواہی کہ میں تو بڑا پارسا آدمی ہوں یہ افواہ اُس بے وفا نے اڑائی کہ میں تو بڑا بے وفا آدمی ہوں پرانے زمانے سے آیا ہوں، لیکن حقیقت یہی ہے، نیا آدمی ہوں میں دیکھ اور سن بھی رہا ہوں سبھی کچھ میں سویا نہیں، جاگتا آدمی ہوں بظاہر تو لگتا نہیں ہوں حسینی مگر…

Read More

ریاض رومانی ۔۔۔ کِس قیامت پہ نظر کرکے ابھی لوٹا ہوں

کِس قیامت پہ نظر کرکے ابھی لوٹا ہوں اپنے اندر کا سفر کرکے ابھی لوٹا ہوں اِک ستارے کو کروں گا ابھی روشن جاکر ایک قطرے کو گہر کرکے ابھی لوٹا ہوں تم سمجھتے ہو کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں، لیکن شب ستاروں پہ بسر کرکے ابھی لوٹا ہوں کوئی آسان نہ تھا سچ کی حمایت کرنا میں یہی کام مگر کرکے ابھی لوٹا ہوں ایک زنجیر کو کاٹا ہے نظر سے میں نے ایک دیوار میں دَر کرکے ابھی لوٹا ہوں

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ سلام

یزیدی عہد ہے امت کی رسوائی نہیں جاتی حسینیت کے دعوے ہیں کہیں پائی نہیں جاتی کوئی جب رزم و بزمِ کربلا کا راز پا جائے تو پھر جو سوچ میں آتی ہے گہرائی نہیں جاتی یہاں جھک جائیں جو سر تاجِ درویشی انھیں زیبا وہ کیا پائیں کہ جن سے بوئے دارائی نہیں جاتی یہ راہِ عشق و مستی ہے میاں اس راہ میں دل کیا قلم سے بھی توازن کی قسم کھائی نہیں جاتی قیام و صبرِ شبیری کا سورج بجھ نہیں سکتا یزیدی جبر کی جب تک…

Read More

کرم ، یا رسولؐ اللہ ۔۔۔ مرزا آصف رسول

کرم ، یا رسولؐ اللہ ………………. کرم، یارسول اللہ! عطا، یارسولؐ اللہ! اندھیروں میں ہوں میں نا سزا، یارسولؐ اللہ! نظر،تن ،جگر ،دل، جاں مرض بڑھ گیا سب کا دوا یارسولؐ اللہ! شفا، یارسولؐ اللہ! ترے دیں کی عظمت کو تو مانے ہیں منکر بھی مرا دیں ہے جو رسوا ہوا، یارسولؐ اللہ! دل و جاں ہوئے طیبہ میں گم یہ بھی کھو جاتی لیے پھر رہا ہوں جو اَنا، یارسولؐ اللہ! فعولُن مفاعی لُن کے پابند تھے جذبے میں شعروں میں کیا کرتا ثنا؟ یارسولؐ اللہ! زہے’’طَلَعَ البَدرُ عَلَینا‘‘کہ…

Read More

اکرم ناصر ۔۔۔ کربلا والوں کے لیے

اک حشر کا سماں تھا ، کنارے فرات کے ہر شخص نوحہ خواں تھا ، کنارے فرات کے اک ضد لگی ہوئی تھی ،کہ بہنا ہے ساتھ ساتھ دریائے خوں رواں تھا ، کنارے فرات کے خنجر کا ، خوں کا ، خاک کا ، پانی کا ، پیاس کا ہر شے کا امتحاں تھا ، کنارے فرات کے گنتی کے جانثار تھے ، پر جانثار تھے انبوہِ دشمناں تھا ، کنارے فرات کے آنکھوں سے دیکھ کر بھی زمیں پر گرا نہیں یہ کیسا آسماں تھا ، کنارے فرات…

Read More