امر مہکی ۔۔۔ ایسا بھی کیا گلہ کہ وہ ڈھب سے نہیں مِلے

ایسا بھی کیا گلہ کہ وہ ڈھب سے نہیں مِلے شاید کہ ہم ہی دل کی طلب سے نہیں مِلے مِل کر جدا ہوئے ابھی لمحہ نہیں ہوا اور ایسا لگ رہا ہے کہ کب سے نہیں مِلے آنکھوں نے اِک نظر میں ترا حُسن پی لیا لب دیکھتے ہی رہ گئے لب سے نہیں مِلے کچھ دوستوں سے تیری وجہ سے ہے دوستی کچھ لوگ جن سے تیرے سبب سے نہیں مِلے مِلناتھا ہم نے جس سے اُسے مِل لیا امر لوگوں کا اعتراض کہ سب سے نہیں مِلے

Read More

فائق ترابی ۔۔۔ کیے جاتا ہے پانی کو شراب آہستہ آہستہ

کیے جاتا ہے پانی کو شراب آہستہ آہستہ سمندر میں اتر کے ماہ تاب آہستہ آہستہ ابھی وہ آنکھ اٹھے گی، ابھی وہ آنکھ پرکھے گی کئی قسطوں میں ہوگا احتساب آہستہ آہستہ اگر بندِ قبا کھولو تو پھر اتنی لطافت سے کہ جیسے مسکراتا ہے گلاب آہستہ آہستہ ابھی تو چند گھڑیاں ہی جدائی میں گزاری ہیں کھلے گی خیمہِ دل کی طناب آہستہ آہستہ کنیز اب شاہِ بوسہ زن سے یوں بھی کہہ نہیں سکتی "حضور آہستہ آہستہ، جناب آہستہ آہستہ” تم اُن انگڑائیوں کے رنگ کمرے میں…

Read More

امتیاز انجم ۔۔۔ کون ، جانے حصار مٹی کا

کون ، جانے حصار مٹی کا آسماں ہے غبار مٹی کا کوئی دنیا نکال مٹی سے کوئی پردہ اتار مٹی کا آگ جلتی ہے راکھ ہوتی ہے کون سہتا ہے وار مٹی کا پانیوں کا وجود مٹی سے آگ میں ہے شرار مٹی کا صرف مٹی کی آبرو کے لیے بن رہا ہے مزار مٹی کا کاروبارِ حیات پوچھتے ہو! چل رہا ہے اُدھار مٹی کا اور مٹی کی کیا فضیلت ہو میں بھی مٹی کا یار مٹی کا آپ جس کو پہاڑ کہتے ہیں ہے ذرا سا اُبھار مٹی…

Read More

سرفراز عارض ۔۔۔ گُل کو لائے صبا کی رَتھ پر کون

گُل کو لائے صبا کی رَتھ پر کون باغ میں جائے اس سَکَت پر کون رابطے تیز ہو گئے اتنے ننگے پائوں اب آئے چھت پر کون میں نے اسلام کو قبول کیا لائے ایمان من گھڑت پر کون ہم سے کہتے ہیں زیورِ دل کو رکھَّے گِروی لکھَت پڑَھت پر کون گُل سے عارض ؔ کو چُوم کر چھوڑا کان دھرتا لبَوں کی مت پر کون

Read More

افروز رضوی ۔۔۔ بُجز خدا کے کسی کو اگر پکارا ہے

بُجز خدا کے کسی کو اگر پکارا ہے یہی تو زیست کا سب سے بڑا خسارا ہے رکاوٹوں سے اُلجھنے کا شوق ہے ہم کو ہمارے واسطے طوفان بھی کنارا ہے بہارِ غُنچہ و گُل باغ میں مہکتی ہے یہ اہلِ دِل کو ملاقات کا اشارا ہے بس اک نظر تمھیں دیکھا تو یوں لگا مجھ کو کہ آسماں سے خدا نے تمھیں اتارا ہے بچھڑ رہے ہو جو مجھ سے تو یاد بھی رکھنا یہ فیصلہ بھی تو میرا نہیں تمھارا ہے کوئی بھی داغ نہ افروز اب لگے…

Read More

بشیر احمد حبیب ۔۔۔ ہزاروں لوگ ملتے ہیں کوئی تم سا نہیں ملتا

ہزاروں لوگ ملتے ہیں کوئی تم سا نہیں ملتا کہیں سیرت نہیں ملتی، کہیں چہرہ نہیں ملتا مکمل ہوں، بہت خوش ہوں کہ اب اس دل میں جھانکوں تو تمھارے بِن کہیں کوئی بھی نظارہ نہیں ملتا تمھارے وصل نے کتنا مکمل کر دیا مجھ کو رہِ دنیا میں کوسوں تک پتا اپنا نہیں ملتا زمانہ ٹھیک سے سمجھا نہیں کارِ محبت کو محبت میں جو سچے ہیں انھیں کیا کیا نہیں ملتا تمہارے سامنے جو لوگ اپنے دھیان میں گم ہیں رہِ الفت میں کوئی اس قدر کھویا نہیں…

Read More

ریاض ندیم نیازی ۔۔۔ چاہتوں کے پیروں میں بیڑیاں نہیں ہوتیں

چاہتوں کے پیروں میں بیڑیاں نہیں ہوتیں قُربتیں جو دل میں ہوں دُوریاں نہیں ہوتیں بارشیں نہیں ہوتیں اُس کے گھر میں رحمت کی جس کسی کے آنگن میں بیٹیاں نہیں ہوتیں جو بھی ہیں حریفِ جاں، اُن سے جاکے کہہ دینا مرد کی کلائی میں چوڑیاں نہیں ہوتیں ظلم و جَور سے عاری جو زمین ہوتی ہے زلزلے نہیں ہوتے ، آندھیاں نہیں ہوتیں اَن گنت مکاں ایسے ، اِس وطن میں دیکھے ہیں جن میں پیٹ بھرنے کو روٹیاں نہیں ہوتیں انتظام رہتا ہے ، گھر کا مُستقل…

Read More

سرفراز عارض ۔۔۔ چِڑا رہا ہے مرے منہ کو سنگ مِیل سفر

چِڑا رہا ہے مرے منہ کو سنگ مِیل سفر مجھے نہ سونپ پڑاؤ پہ اتنی ڈھیل سفر وہ خوش نصیب ہیں منزل پہ جو پہنچتے ہیں ہماری روح میں کاڑھے گئے ہیں نِیل سفر ’بہشت سے نہ کہیں اور انتقال کریں‘ پکارتا ہے شہیدوں کو سلسبیل سفر صعوبتوں کی ہتھوڑی نے تنگ گیری سے ہمارے پاؤں میں ٹھونکی ہے ٹیٹرھی کِیل سفر ’’چپک گیا ہے مرے جسم کی مسافت سے‘‘ غُبارِ زیست مری روح سے نہ چھِیل سفر مہک رہاہے تِری یاد کا گلاب ایسا پڑ ا ہو جیسے کہ…

Read More

حمایت علی شاعر ۔۔۔ بابِ علم

بابِ علم۔۔۔۔۔۔۔بے اماں زمین پر، سایۂ اماں تھا وہایک اور آسماں، زیر آسماں تھا وہآئینہ در آئینہ، اس کا عکس دیکھناسوچنا کہ فرد تھا کہ ایک کارواں تھا وہوہم اور گمان کی، گھپ سیاہ رات میںمشعلِ یقیں تھا وہ، صبح کی اذاں تھا وہحرف و لب کے درمیان جب بھی فاصلے بڑھےخامشی گواہ ہے، عہد کی زباں تھا وہوہ جسے کہا گیا، باب شہر علم کااپنے لفظ لفظ میں علم کا جہاں تھا وہدیکھیے تو آدمی، سوچیے تو اور کچھیعنی ایک بوند میں، بحرِ بیکراں تھا وہ

Read More

فہمیدہ ریاض ۔۔۔ انتساب ۔۔۔ ۲

انتساب ۔۔۔ ۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید کہ قول خاک سے ہارا قلم مرا تا عمر صرف حرفِ تمنا رقم کیا جی کو ضد کہ آج تو خوں ناب روئیے یہ قطرۂ سر شک سے بوٹے بنا گیا پت جھڑ میں ضد رہی کہ لکھے نو بہار رنگ تقدیر تو سیاہ تھی تحریر کی مری یہ اُس کا حوصلہ ہے کہ پھوٹے ہزار رنگ کیا بے قرار رنگ!

Read More