جنھیں یہ لوگ جگنو کہہ رہے ہیں فلک سے ٹوٹ کر تارے گرے ہیں تری آنکھوں سے خود کو دیکھنا ہے مرے دل میں بھی کچھ منظر پڑے ہیں کوئی منظر نہیں درکار اِن کو غذا آنکھوں کی بس یہ رتجگے ہیں تری باتیں مضامیں ہیں غزل کے ترے عارض غزل کے قافیے ہیں مری تاریک دنیا میں ابھی تک ترے روشن دیے کے تذکرے ہیں یہی لکھنا مرے کوچے کے بارے کہیں پتھر کہیں پر آئنے ہیں نکل کر آنکھ کے پنجروں سے اکثر فصیلِ شب پہ منظر ناچتے…
Read MoreMonth: 2021 اکتوبر
شاذیہ اکبر ۔۔۔ دو غزلیں
ذرا سی آنچ بڑھا، دل جلا، یقیں رکھ دے جہاں ہے عشق وہاں روحِ آتشیں رکھ دے تو جانتی ہے کہاں ہے ترا خیالِ وجود انا بچھا دے وہیں پر وہیں جبیں رکھ دے ارادہ باندھ سفر کا یقیں کی چادر میں دو ایک خواب کسی تہ میں بھی کہیں رکھ دے زمیں کی چیز ہیں سب احتیاج کی باتیں ترا سفر ہے جدا زادِ رہ یہیں رکھ دے قدم قدم پہ سرائے ملے گی رکنا نہیں شب وصال کی حسرت دلِ حزیں رکھ دے یہ آسمان شناسا ہے میرا…
Read Moreمحمود کیفی ۔۔۔ پتّھروں میں گُلاب دیکھتا ہوں
پتّھروں میں گُلاب دیکھتا ہوں اپنی مرضی کے خواب دیکھتا ہوں آنکھ سے وہ دِکھائی دیتا نہیں دِل سے میں بے حساب دیکھتا ہوں تِیر و تلوار دیکھ تُو ظالِم میں قلم اور کِتاب دیکھتا ہوں تُو بھی کر میرے سب گُناہ شمار میں بھی تیرا ثواب دیکھتا ہوں دیکھتا ہے تُو شب میں تاریکی اور میں ماہتاب دیکھتا ہوں ایک اندھے نے ڈرتے ڈرتے کہا دیکھتا ہوں ، جناب دیکھتا ہوں جِسم پر دیکھتا ہوں میں پِیری خواہشوں پر شباب دیکھتا ہوں تُو عداوت کے در بناتا ہے میں…
Read Moreانصر رشید انصر ۔۔۔ پھر یہ کون و مکان بولیں گے
پھر یہ کون و مکان بولیں گے جب یہاں بے زبان بولیں گے میرے منہ میں زباں رہے نہ رہے آنکھ کے اشک دان بولیں گے دھوپ کب تک جلائے گی یارو صبر کے سائبان بولیں گے منزلیں سادھ لیں گی چپ لیکن راستے بے تکان بولیں گے بن کے گونگے کھڑے رہے انصر ہم کو جن پر تھا مان بولیں گے
Read Moreمظہر حسین مظہر ۔۔۔ عقیدت (محسنِ اُردو ادب، عظیم محقق، عالی مرتبت استاذ اور نامور نقاد سید عبداللہ کی برسی پر)
عقیدت (محسنِ اُردو ادب، عظیم محقق، عالی مرتبت استاذ اور نامور نقاد سید عبداللہ کی برسی پر) آسمانِ ملکِ اردو کے درخشاں آفتاب سید عبداللہ تیری ذات ہے عالی صفات خار زارِ نقد کو تو نے بنایا گل ستاں کردیا تنقید کو تخلیق کا یوں ہم زباں فارسی کے پاسباں،اردو ادب کے نغمہ خواں ہر محقق ہے تمہارے وصف میں رطب اللساں سید عبد اللہ تیری ذات ہے عالی صفات تو نے اردو کے چمن میں جو اگائے ہیں گلاب ختم ہونے کی نہیں ان کی مہک ان کا شباب…
Read Moreارسلان ساحل ۔۔۔ دو غزلیں
کیا بتاؤں میں کہاں شام و سحر کرتا رہا جیسے ممکن تھا ترے بعد سفر کرتا رہا اس حویلی کی خموشی سے یہی لگتا ہے کوئی گھُٹ گھُٹ کے یہاں عمر بسر کرتا رہا کمسنی میری کہاں اور کہاں شعر و سخن کام مشکل تھا مرے یار ، مگر کرتا رہا خوب کی اُس نے ہواؤں کی حمایت لیکن میں بھی ظلمت میں چراغوں کو امر کرتا رہا عین ممکن ہے کہ کھل جائیں بدن کی پرتیں ہجر سینے میں یونہی شور اگر کرتا رہا اُس نے سیکھا ہے پرندوں…
Read Moreسرور حسین نقشبندی ۔۔۔ حسین ابن علیؓ
تو محبت کا پیامی ہے حسین ابن علیؓ تیری جرات کو سلامی ہے حسین ابن علیؓ عظمت آثار ترا نقشِ قدم ہے مولا خواجگی تیری غلامی ہے حسین ابن علیؓ حشر تک سارے یزیدوں کے لیے مرگ اثر آپ کا اسم گرامی ہے حسین ابن علیؓ شائبہ کوئی نہیں اس میں ذرا بھی شر کا خیر ہی خیر تمامی ہے حسین ابن علیؓ تجھ کو جو ذرہ برابر بھی غلط کہتا ہے اس کے ہونے میں ہی خامی ہے حسین ابن علیؓ جامۂ صبر و رضا پہنے سر نوکِ سناں…
Read Moreنعت ۔۔۔ سرور حسین نقشبندی
ذہن جب نعت کے انوار میں کھو جاتا ہے اک اجالا میرے اطراف میں ہو جاتا ہے واسطہ ان کا جو دیتا ہوں کسی مشکل میں کام جو کوئی نہ ہوتا ہو وہ ہو جاتا ہے کوئی تفریق نہیں اپنے پرائے کی وہاں بھر کے دامن کو چلا آتا ہے جو جاتا ہے جانے اس شہر میں جا کر میری کیا حالت ہو ذکر جس کا میری پلکوں کو بھگو جاتا ہے ایک جھونکا سا گزرتا ہے سرِ شامِ ثنا خوشبوئیں میرے دل وجاں میں سمو جاتا ہے تازہ دم…
Read Moreحمیرا راحت ۔۔۔ واٹس ایپ
یہ ہیلو ہائے کی دنیا۔۔۔ یہاں پر ہرنئے پل اِک شناسائی ہمارا ہاتھ تھامے ربط کو مضبوط کرتی ہے یہاں پر جھوٹ چھُپ جاتا ہے اکثر سچ کے چہرے میں ایموجیز اور جی آئی ایف کی دنیاؤں میں ہم تم سانس لیتے ہیں ہمارے دل میں بہتے درد کو یا پھر ہمکتی اِک خوشی ، بے چارگی اور بے بسی کو اب انھی بے جان اشیا کی ضرورت ہے یہ کچھ رنگین اسٹیکر تاثر ، لفظ ، جذبے اور لہجے کے امیں ٹھہرے مقید ہو چکے ہیں ہم انھی مصنوعی…
Read More