نعت کے دو شعر ہے شب درود کا لمحہ، تو دن سلام کا ہے یہ کائنات کا سکہ انہی کے نام کا ہے بجھارتیں ترے کردار کی سمجھنی ہیں کہ ساری چھان پھٹک میں یہ کام، کام کا ہے
Read MoreMonth: 2022 اپریل
سعید سادھو
ایسے موقعے تھکے تھکے اعصاب میں ملتے ہیں میں سوتا ہوں تو بھی سو جا خواب میں ملتے ہیں
Read Moreسجاد بلوچ
اگر کسی نے خریدا نہ آج بھی مرا دن تو معذرت مرے لیل و نہار تھک گیا میں
Read Moreنعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سجاد بلوچ
گلِ خیال میں کرتی ہے پھر نمو تری نعت مہک رہی ہے مرے دل میں چار سو تری نعت کرم ہو مجھ پہ بھی حسّان کے سخی آقا میں ایک بار پڑھوں تیرے روبرو تری نعت سماعتوں سے اترتی ہے دل تلک خوشبو کہیں سناتا ہے جب کوئی خوش گلو تری نعت بھرے جہان میں سرمایہءسکوں ہے یہی ترا خیال، ترے در کی آرزو، تری نعت کہیں قصیدۂ بردہ شریف میں تری گونج کہیں ہے مصرعۂ باہو میں ایک ہو تری نعت بوقتِ صبح سناتے ہیں بعدِ حمدِ خدا صبا،…
Read Moreسجاد بلوچ … تھکن کے چڑھتے اترتے خُمار تھک گیا میں
تھکن کے چڑھتے اترتے خُمار تھک گیا میں قرار! گردشِ لیل و نہار تھک گیا میں مرے چراغ، مرے ہم نشیں خدا حافظ! مرے سکوت، مرے انتظار تھک گیا میں ہواؤ، آؤ اُڑاؤ ذرا مری بھی خاک اُڑا اُڑا کے یہ گرد و غُبار تھک گیا میں میں تنگ آیا گریبان چاک کر کر کے کہ توڑ توڑ کے غم کا حصار تھک گیا میں زمانے تجھ کو مبارک ترے ادب آداب اٹھا اٹھا کے تکلف کا بار تھک گیا میں اگر کسی نے خریدا نہ آج بھی مرا دِن…
Read Moreسجاد بلوچ
ہجرت ِخانہ بدوشاں بھی کوئی ہجرت ہے ہم تو ویرانے میں آئے کسی ویرانے سے
Read Moreنعت رسول مقبول صل للہ علیہ وسلم … قاضی ظفر اقبال
لولاک ہے چمن گل خوشرو حضور ہیں ہر گل کی رگ میں صورت خوشبو حضور ہیں ہر ظلم کے محاذ پہ سینہ سپر ہیں آپ ہر ناتواں کی قوت بازو حضور ہیں رہتے ہیں ممکنات ابد تک نگاہ میں حسن ازل کی جنبش ابرو حضور ہیں بہر مشام روح سر دشت کائنات عطر روان و نافہء آہو حضور ہیں صحرا میں ہر مسافر بیکس کے واسطے کنج سکون و نخل لب جو حضور ہیں گمراہیوں میں سمت نما اسم آپ کا تشکیک میں یقیں کا ترازو حضور ہیں تسکین قلب…
Read Moreالیاس بابر اعوان
وہ بڑی تیز ہے پر تیز نہیں دِکھتی ہے میں جو معصوم ہُوں معصوم نظر آتا ہُوں
Read Moreالیاس بابر اعوان
پھولوں کے ساتھ دِل پڑا ہُوا ہے کوئی لاہور سے بھی آیا تھا کیا!
Read Moreاحمد جہانگیر … خُسرو کا رنگین سِنگھاسن، جھومر شاہ بھٹائی کا
خُسرو کا رنگین سِنگھاسن، جھومر شاہ بھٹائی کا تہذیبوں کے رنگ سے روشن چہرہ سندھو مائی کا تو موہن جو داڑو کا گُل، خاک ہڑّپہ نگری کی یعنی ایک تحیّر پیہم ہے جلوہ آرائی کا تو باغِ لاہور کا سبزہ، خوشبو تخت کلاچی کی اور شرف اس باغیچے میں مجھ کو شعر سرائی کا گلگت اور کیلاش دریچے خُلد کی جانب کھلتے ہیں مالا کنڈ کی جھیل میں تاباں منظر خواب کُشائی کا گھاس کے میدانوں سے ابھریں ست رنگے پنجاب کے سُر اک تارے کی تان سے پھوٹے نغمہ…
Read More