کچھ آسماں کی خبر ہے نہ اب زمیں معلوم گزر رہا ہوں کہاں سے مجھے نہیں معلوم لپک کے کیسے کسی خواب کو سنبھالنا ہے مجھے یہ رمز ہوئی آپ کے تئیں معلوم عجیب خوف ہے جاتا ہے اور نہ مِٹتا ہے لرز رہی ہے ابھی تک وہ شہ نشیں معلوم دمک رہے ہیں ستارے تمھاری آنکھوں کے مہک رہی ہے اندھیرے میں یاسمیں معلوم تمام رات سیاہی سے جُھوجَھتا ہے فلک سحر کے بعد یہ ہوتا ہے نیلمیں معلوم خود اپنی ذات کا اثبات کر رہا ہوں مَیں ہے…
Read MoreDay: جون 18، 2026
میر تقی میر
شب کو اس کا خیال تھا دل میں گھر میں مہماں عزیز کوئی تھا
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ تا بہ مقدور انتظار کیا
تا بہ مقدور انتظار کیا دل نے اب زور بے قرار کیا دشمنی ہم سے کی زمانے نے کہ جفاکار تجھ سا یار کیا یہ توہّم کا کارخانہ ہے یاں وہی ہے جو اعتبار کیا صد رگِ جاں کو تاب دے باہم تیری زلفوں کا ایک تار کیا ہم فقیروں سے بے ادائی کیا آن بیٹھے جو تم نے پیار کیا سخت کافر تھا جس نے پہلے میر مذہبِ عشق اختیار کیا
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ خواہ مجھ سے لڑ گیا اب خواہ مجھ سے مل گیا
خواہ مجھ سے لڑ گیا اب خواہ مجھ سے مل گیا کیا کہوں اے ہم نشیں میں تجھ سے حاصل دل گیا اپنے ہی دل کو نہ ہو واشد تو کیا حاصل نسیم گو چمن میں غنچۂ پژمردہ تجھ سے کِھل گیا دل سے آنکھوں میں لہو آتا ہے شاید رات کو کش مکش میں بے قراری کی یہ پھوڑا چِھل گیا رشک کی جاگہ ہے مرگ اس کشتۂ حسرت کی میر نعش کے ہمراہ جس کی گور تک قاتل گیا
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ عالم میں کوئی دل کا خریدار نہ پایا
عالم میں کوئی دل کا خریدار نہ پایا اس جنس کا یاں ہم نے خریدار نہ پایا حق ڈھونڈنے کا آپ کو آتا نہیں ورنہ عالم ہے سبھی یار کہاں یار نہ پایا تصویر کے مانند لگے در ہی سے گزری مجلس میں تری ہم نے کبھو بار نہ پایا مربوط ہیں تجھ سے بھی یہی ناکس و نااہل اس باغ میں ہم نے گلِ بے خار نہ پایا آئینہ بھی حیرت سے محبت کی ہوئے ہم پر سیر ہو اُس شخص کا دیدار نہ پایا وہ کھینچ کے شمشیرِ…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگا
اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگا دشمن کے بھی دشمن پر ایسا نہ ہوا ہوگا ٹک گورِ غریباں کی کر سیر کہ دنیا میں ان ظلم رسیدوں پر کیا کیا نہ ہوا ہوگا ہے قاعدۂ کلی یہ کُوئے محبت میں دل گم جو ہوا ہوگا پیدا نہ ہوا ہوگا اس کہنہ خرابے میں آبادی نہ کر منعم اک شہر نہیں یاں جو صحرا نہ ہوا ہوگا آنکھوں سے تری ہم کو ہے چشم کہ اب ہووے جو فتنہ کہ دنیا میں برپا نہ ہوا ہوگا جز مرتبۂ…
Read Moreشہاب صفدر ۔۔۔ لاکھوں کے بیچ ہے کوئی تنہا کھڑا ہوا
لاکھوں کے بیچ ہے کوئی تنہا کھڑا ہوا دیکھوتو سنگ ریزوں میں ہیرا پڑا ہوا تو مصلحت کے سائے میں کیا قد نکالتا بے دھوپ کھائے کب کوئی پودا بڑا ہوا ٹکرا کے لوٹ جائیں گی منہ زور آندھیاں مٹی میں اپنی کوہ صفت ہوں گڑا ہوا سستانے بیٹھ جائے گھڑی بھر تو اور بات چھتری پہ لوٹ آتا ہے پنچھی لڑا ہوا اے چھوڑ جانے والے ہوا کیش یاد رکھ محروم ِ نم ہی رہتا ہے پتا جھڑا ہوا ایسےتواس کودل میں جگہ ہم نےدی نہیں نایاب ہے انگوٹھی…
Read More