کہاں تک ساتھ چلتے جُھوٹ کے ہم
مسافر ہی نہ تھے اِس رُوٹ کے ہم
حقیقت جانتے ہیں تیری دنیا
کُھلے رکھتے ہیں تسمے بُوٹ کے ہم
بلندی پر تھے لیکن ایک دن پھر
گرے ہاتھوں سے تیرے چُھوٹ کے ہم
ابھی تو صرف آنکھیں نم ہوئی ہیں
ابھی روئے کہاں ہیں پُھوٹ کے ہم
بہت سی تلخیوں کو پی رہے ہیں
شرابِ ناب میں اب کُوٹ کے ہم
چراغوں کا دھواں باقی رہے گا
چلے جائیں گے محفل لُوٹ کے ہم
سحر دیکھیں گے اپنی کرچیوں کو
کبھی شیشے کی صورت ٹوٹ کے ہم
Related posts
-
بسمل صابری ۔۔۔ حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور
حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور لب کہتے ہیں کچھ اور انھیں... -
بسمل صابری ۔۔۔ سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا
سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا جب آئی شب ترے خوابوں نے مجھ... -
حفیظ ہوشیارپوری ۔۔۔ محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے میں...
