کب نگاہِ کرم نہیں ہوتی
تشنگی پھر بھی کم نہیں ہوتی
اتنا ارزاں لہو ہے آدم کا
کوئی بھی آنکھ نم نہیں ہوتی
راہِ ہستی بڑی کٹھن ہی سہی
چاہ جینے کی کم نہیں ہوتی
میں ہی عادی سا ہو گیا یا پھر
بے رُخی کچھ ستم نہیں ہوتی
سبھی کچھ ہے روا سیاست میں
اس میں کوئی قسم نہیں ہوتی
کون سی بات ہے مری محسن
جو کسی جا رقم نہیں ہوتی
