جس کی جرأت پر جہانِ رنگ و بو سجدے میں ہے
آج وہ رَمز آشنائے سِرِّ ھُو سجدے میں ہے
کیسا عابد ہے یہ مقتل کے مصلی پر کھڑا
کیا نمازی ہے کہ بے خوفِ عدو سجدے میں ہے
اے حسین ابن علی تجھ کو مبارک یہ عروج
آج تو اپنے خدا کے روبرو سجدے میں ہے
جانبِ کعبہ جھکا مولودِ کعبہ کا پسر
قبلہ رو ہو کر حسینِ قبلہ رو سجدے میں ہے
ابنِ زہرا اس تری شانِ عبادت پر سلام
سر پہ قاتل آچکا ہے اور تو سجدے میں ہے
اللہ اللہ تیرا سجدہ اے شبیہِ مصطفی
جیسے خود ذاتِ پیمبر ہو بہ ہو سجدے میں ہے
یہ شرف کس کو ملا تیرے علاوہ بعدِ قتل
سر ہے نیزے کی بلندی پر ،اور لہو سجدے میں ہے
محوِ حیرت ہیں ملائک، دم بخود ہے کائنات
آج مقتل میں علی کا ماہرُو سجدے میں ہے
سر کو سجدے میں کٹا کر کہہ گیا زہرا کا لال
کچھ اگر ہے تو بشر کی آبرو سجدے میں ہے
