جس کی جرأت پر جہانِ رنگ و بو سجدے میں ہے آج وہ رَمز آشنائے سِرِّ ھُو سجدے میں ہے کیسا عابد ہے یہ مقتل کے مصلی پر کھڑا کیا نمازی ہے کہ بے خوفِ عدو سجدے میں ہے اے حسین ابن علی تجھ کو مبارک یہ عروج آج تو اپنے خدا کے روبرو سجدے میں ہے جانبِ کعبہ جھکا مولودِ کعبہ کا پسر قبلہ رو ہو کر حسینِ قبلہ رو سجدے میں ہے ابنِ زہرا اس تری شانِ عبادت پر سلام سر پہ قاتل آچکا ہے اور تو سجدے…
Read MoreTag: نصیر
نصیر ترابی
ہم اہلِ ہجر کو صحرا ہی ایک رستہ تھا اب اس طرف سے بھی خلقِ خدا گزرتی ہے
Read Moreایک تصویر کی محویت ۔۔۔ نصیر احمد ناصر
ایک تصویر کی محویت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنا گہرا استغراق جیسے جنگل ہو خاموش جیسے پانی ہو مدہوش جیسے باہم ہجر وصال جیسے خواب میں کوئی خیال …………………..
Read Moreشاہ نصیر
خیالِ زلفِ بتاں میں نصیر پیٹا کر گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹا کر
Read More