سلام ۔۔۔ حمیدہ شاہین

سلام

غمِ حسینؑ حقیقت بھی، استعارا بھی
یہ اپنے آپ میں غم بھی ہے ، غم کا چارا بھی

ہے ایک یاد دہانی یہ ذکرِ کرب و بلا
کہ اپنے درد بھی سانجھے ہیں اور خسارا بھی

پکارتے ہیں زمان و مکاں بھی نوحہ کناں
غمِ حسینؑ ہمارا بھی ہے تمہارا بھی

بیانِ قصّہِ غم آنسوؤں پہ فرض ہوا
کسی کمی کو جو کرتے نہیں گوارا بھی

کمالِ آیۂ بالصّبر والصّلوٰۃ حسینؑ
جو ایک وعدہ بھی ، امّید بھی ، سہارا بھی

کس آفتاب پر اَن ہونیوں کی شام آئی
شفق میں آن ملا تھا لہو کا دھارا بھی

طلوعِ درد سے گزرا مہِ شبِ عاشور
غمِ حسین میں ڈوبا تھا ہر ستارا بھی

Related posts

Leave a Comment