کل مجھ سے جو کہتے تھے کہ کیوں رہتے ہو خاموش
بولا میں جب اُن سے تو ہوئے کیوں وہ گراں گوش
غم بھی ہیں اگر ساتھ خوشی کے ، تو نہ گھبرا
ہیں روزِ ازل سے ہی گُل و خار ، ہم آغوش
پیوستہ ہیں اک دوسرے سے، علّت و معلول
تیرا ہے قصور اور کسی کا نہ کوئی دوش
کر سکتی ہے کیا فکرِ سلیم ، اپنا کوئی کام
جب جوش کے ہو زیرِنگیں ،سلطنتِ ہوش
آقاؐ ہے مِرا سُرمہ ، تیری خاک کفِ پا
ہے تاجِ فضیلت مرے سر کی ، تِری پاپوش
ممکن ہے کہ اندرسے ہو کمزور سا اِنساں
جس کا نظر آتا ہے قوی ، ہم کو ، تن و توش
تلوار لیے ، دشمنِ جاں ،سر پہ کھڑا ہے
اور قوم ابھی نشّۂ غفلت میں ہے مدہوش
ہوتا نہیں بیدار جلال ، اُس کا کبھی بخت
اغیار کی محتاج ہو جو ، ملّتِ کم کوش
