سید قاسم جلال ۔۔۔ کل مجھ سے جو کہتے تھے کہ کیوں رہتے ہو خاموش

کل مجھ سے جو کہتے تھے کہ کیوں رہتے ہو خاموش
بولا میں جب اُن سے تو ہوئے کیوں وہ گراں گوش
غم بھی ہیں اگر ساتھ خوشی کے ، تو نہ گھبرا
ہیں روزِ ازل سے ہی گُل و خار ، ہم آغوش
پیوستہ ہیں اک دوسرے سے، علّت و معلول
تیرا ہے قصور اور کسی کا نہ کوئی دوش
کر سکتی ہے کیا فکرِ سلیم ، اپنا کوئی کام
جب جوش کے ہو زیرِنگیں ،سلطنتِ ہوش
آقاؐ ہے مِرا سُرمہ ، تیری خاک کفِ پا
ہے تاجِ فضیلت مرے سر کی ، تِری پاپوش
ممکن ہے کہ اندرسے ہو کمزور سا اِنساں
جس کا نظر آتا ہے قوی ، ہم کو ، تن و توش
تلوار لیے ، دشمنِ جاں ،سر پہ کھڑا ہے
اور قوم ابھی نشّۂ غفلت میں ہے مدہوش
ہوتا نہیں بیدار جلال ، اُس کا کبھی بخت
اغیار کی محتاج ہو جو ، ملّتِ کم کوش

Related posts

Leave a Comment