عرش سے رُخ جانبِ دنیائے دُوں کرنا پڑا بندگی میں کیا سے کیا یہ سر نگوں کرنا پڑا مِنّتِ ساحل بھی سر لے لی بھنور میں ڈولتے ہاں یہ حیلہ بھی ہمیں بہرِسکوں کرنا پڑا سامنے اُس یار کے بھی اور سرِ دربار بھی ایک یہ دل تھا جسے ہر بار خوں کرنا پڑا ہم کہ تھے اہلِ صفا یہ راز کس پر کھولتے قافلے کا ساتھ آخر ترک کیوں کرنا پڑا خم نہ ہو پایا تو سر ہم نے قلم کروا لیا وُوں نہ کچھ ماجد ہُوا ہم سے…
Read MoreTag: ماجد صدیقی کی غزلیں
ماجد صدیقی ۔۔۔ سر پہ کیا کیا بوجھ روز افزوں نظر آنے لگے
سر پہ کیا کیا بوجھ روز افزوں نظر آنے لگے عمر ڈھل جانے لگی اور قرض بڑھ جانے لگے بحر میں حالات کے، بے رحم موجیں دیکھ کر اژدہے کچھ اور ہی آنکھوں میں لہرانے لگے مِہر کے ڈھلنے، نکلنے پر کڑکتی دھوپ سے گرد کے جھونکے ہمیں کیا کیا نہ سہلانے لگے تُند خوئی پر ہواؤں کی، بقا کی بھیک کو برگ ہیں پیڑوں کے کیا کیا، ہاتھ پھیلانے لگے وحشتِ انساں کبھی خبروں میں یوں غالب نہ تھی لفظ جو بھی کان تک پہنچے وہ دہلانے لگے چھُو…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ راگنیوں سے بے بہرہ سُر تالوں جیسے
راگنیوں سے بے بہرہ سُر تالوں جیسے کام مرے، کانٹوں میں اُلجھے بالوں جیسے دھڑکن دھڑکن بے تابی ہے اور جیون کے لمحے بوجھل قدموں، ٹھِٹھرے سالوں جیسے اندر بعض گھروں میں سیم و زر کی بارش باہر کے احوال سبھی کنگالوں جیسے دھُند سے نکلے کیونکر پار، مسافت اُن کی رہبر جنہیں میّسر ہوں، نقّالوں جیسے اپنے ہاں کے حبس کی بپتا بس اتنی ہے آنکھوں آنکھوں اشک ہیں ماجدؔ چھالوں جیسے
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ دل سے تیروں کا اور کمانوں کا
دل سے تیروں کا اور کمانوں کا خوف جاتا نہیں مچانوں کا ایک ہی گھر کے فرد ہیں ہم تم فرق رکھتے ہیں پر زبانوں کا رُت بدلنے کی کیا بشارت دے ایک سا رنگ گلستانوں کا کون اپنا ہے اِک خدا وہ بھی رہنے والا ہے آسمانوں کا بات ماجدؔ کی پُوچھتے کیا ہو شخص ہے اِک گئے زمانوں کا
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ دیکھنا ہر سمت سیلِ فتنہ و شر دیکھنا
دیکھنا ہر سمت سیلِ فتنہ و شر دیکھنا مادۂ آتش سے پُر اپنے سمندر دیکھنا پچھلی ساعت کربلاؤں سا ہُوا جو رُو نما ہے ہمیں سکرین پر گھر میں وہ منظر دیکھنا اِس سے پہلے تو کوئی بھی ٹڈّی دَل ایسا نہ تھا اب کے جو پرّاں فضا میں ہیں وہ اخگر دیکھنا فاختائیں فاختاؤں کو کریں تلقینِ امن مضحکہ موزوں ہُوا یہ بھی ہمِیں پر دیکھنا کیا کہیں آنکھوں پہ اپنی جانے کب سے قرض تھا جسم میں اُترا کم اندیشی کا خنجر دیکھنا کچھ نہیں جن میں معانی…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ شہر پہ جانے کس افتاد کی گھڑیاں آنے والی ہیں
شہر پہ جانے کس افتاد کی گھڑیاں آنے والی ہیں خبروں پر مامور ہوئیں جتنی بھی زبانیں کالی ہیں ساحل کو چھو لینے پر بھی سفلہ پن دکھلانے کو دریاؤں نے کیا کیا موجیں اب کے اور اچھالی ہیں گلیوں گلیوں دستک دیتے، امن کی بھیک نہ ملنے پر دریوزہ گر کیا کیا آنکھیں، کیا کیا ہاتھ سوالی ہیں اُس کا ہونا مان کے، اپنے ہونے سے انکار کریں جابر نے کچھ ایسی ہی شرطیں ہم سے ٹھہرا لی ہیں حرف و زبان کے برتاؤ کا ذمّہ تو کچھ میر…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ سانپ کہاں ہے اِتنا پتہ جب چل جاتا ہے
سانپ کہاں ہے اِتنا پتہ جب چل جاتا ہے وُہ کہ ڈسا جانے والا ہے، سنبھل جاتا ہے اُس کی غرض تو بس سانسیں پی جانے تک ہے جس کو نگلے دریا اُسے، اُگل جاتا ہے گود کھلاتی خاک بھی کھسکے پَیروں تلے سے سرپر ٹھہرا بپھرا امبر بھی ڈھل جاتا ہے پانی پر لہروں کے نقش کہاں ٹھہرے ہیں منظر آتی جاتی پل میں بدل جاتا ہے دُشمن میں یہ نقص ہے جب بھی دکھائی دے تو رگ رگ میں اِک تُند الاؤ جل جاتا ہے جس کا تخت…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ وہ چنچل جب سے میرا ہو گیا ہے
وہ چنچل جب سے میرا ہو گیا ہے خدا بھی میرے اندر آ بسا ہے وہ جس کی دید سے ہوں سیر آنکھیں ثمر سے بھی زیادہ رَس بھرا ہے نگاہوں میں چھپی نجمِ سحر سی عجب بے نام سی طُرفہ حیا ہے اسے دیکھو بہ حالِ لطف جب بھی مثالِ مہ، پسِ باراں دھُلا ہے کرے وہ گل نہ ایسا تو کرے کیا سنا ہم نے بھی ہے وہ خود نما ہے تعلق اُس سے ماجد کیا بتائیں معانی سا جو لفظوں میں بسا ہے
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ دھچکے ابھی کتنے ہیں ابھی کھائیاں کیا کیا
دھچکے ابھی کتنے ہیں ابھی کھائیاں کیا کیا جینا ابھی دے گا مجھے رسوائیاں کیا کیا کچھ قطعِ رگِ جاں سے، کچھ قُلقُلِ خوں سے بجتی ہیں محلّات میں شہنائیاں کیا کیا خود نام پہ دھبے ہیں جو، ہاں نام پہ اُن کے ہوتی ہیں یہاں انجمن آرائیاں کیا کیا قوسوں میں فلک کی، خمِ ابرو میں ہَوا کے دیکھی ہیں یہاں خلق نے دارائیاں کیا کیا جو چھید ہوئے تھے کبھی دامانِ طلب میں دیں دستِ غضب نے اُنھیں، پہنائیاں کیا کیا ہٹ کر بھی ہمیں پرورشِ جاں سے…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ دامن دامن بھیگ چلا ہے آنکھیں ساری بے نم ہیں
دامن دامن بھیگ چلا ہے آنکھیں ساری بے نم ہیں اشک بھی جیسے اوس ہُوئے دیتے جو دکھائی کم کم ہیں اک جیسی ہیں وہ جلتی آنکھوں کی ہوں کہ چراغوں کی رخساروں منڈیروں پر جتنی بھی لَویں ہیں مدّھم ہیں صحراؤں میں دست و گریباں اِک دوجے سے بگولے بھی بحر کنارے موجیں بھی مصروفِ شورشِ باہم ہیں وہ بھی جو دبنے والے ہیں نسبت اُس سے رکھتے ہیں اور وہ بھی جو دھونس دکھائیں فرزندانِ آدم ہیں اب کے تو آثارِ سحر جیسے نہ اِنھیں بھی دکھائی دیں…
Read More