رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے چیتے مل کر خون سے پیاس بُجھانے نکلے اَب کے ستمگر ، کھوپڑیوں سے ہوں جو مرصّع اُن میناروں کی بنیاد اُٹھانے نکلے وہ کہ بہت نازاں تھے مہذّب ہونے پر جو ہوّے بن کر خلق کو ہیں دہلانے نکلے یکجا کر کے جتنے کھلونے تھے بارودی بالغ بچّے ، الٹا کھیل رچانے نکلے ہم نے جلائے شہروں شہروں جن کے پُتلے وہ جسموں کی تازہ فصل جلانے نکلے ہم جانے کس بِرتے پر نم آنکھیں لے کر سنگ دلوں کو ماجد…
Read MoreTag: ماجد صدیقی
ماجد صدیقی ۔۔۔ جبر وہ کیا ہے جس سے آنکھ چرانے لگے ہیں
جبر وہ کیا ہے جس سے آنکھ چرانے لگے ہیں ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں نیل کا فرعونوں سے ہُوا جب سے سمجھوتہ جتنے حقائق تھے سارے افسانے لگے ہیں غاصب اُس کے ہاتھوں میں بارود تھما کر لَا وارث بچے کو لو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہلانے لگے ہیں دھونس جما کر ہاں ۔ ۔ ۔ ریوڑ سے دُور بھگا کر بھیڑ یے بھیڑ پہ اپنی دھاک بٹھانے لگے ہیں وہ جب چاہیں میں اُن کا لقمہ بن جاؤں جابر مجھ سے عہد نیا…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ زد پر جب اُس کی میں حدِ جاں سے گزر گی
زد پر جب اُس کی میں حدِ جاں سے گزر گیا دریا میں جتنا زور تھا پل میں اُتر گیا دیکھی جب اپنی ذات پہ آتی ذرا سی آنچ وہ بدقماش اپنے کہے سے مُکر گیا آخر کو کھینچ لایا وہ سورج سرِ افق جو جیش جگنوؤں کا بسوئے سحر گیا خود اُس کا اَوج اُس کے توازن کو لے اڑا نکلا ذرا جو حد سے تو سمجھو شجر گیا جس کو بقا کا راز بتانے گیا تھا میں سائل سمجھ کے وہ مری دستک سے ڈر گیا کربِ دروں…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ راگنیوں سے بے بہرہ سُر تالوں جیسے
راگنیوں سے بے بہرہ سُر تالوں جیسے کام مرے، کانٹوں میں اُلجھے بالوں جیسے دھڑکن دھڑکن بے تابی ہے اور جیون کے لمحے بوجھل قدموں، ٹھِٹھرے سالوں جیسے اندر بعض گھروں میں سیم و زر کی بارش باہر کے احوال سبھی کنگالوں جیسے دھُند سے نکلے کیونکر پار، مسافت اُن کی رہبر جنہیں میّسر ہوں، نقّالوں جیسے اپنے ہاں کے حبس کی بپتا بس اتنی ہے آنکھوں آنکھوں اشک ہیں ماجدؔ چھالوں جیسے
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ ناحق پہ بھی لاریب گھڑی آئے گی کچھ اور
ناحق پہ بھی لاریب گھڑی آئے گی کچھ اور خاموشیِ وجدان، خبر لائے گی کچھ اور جیسے کسی قیدی کو جنم دِن کا حوالہ پنجرے میں صبا جھانک کے تڑپائے گی کچھ اور صرصر نے جو دھارا ہے نیا روپ صبا کا یہ فاحشہ ابدان کو سہلائے گی کچھ اور کہہ لو اُسے تم رقص پہ طوفانِ بلا میں کمزور ہے جو شاخ وہ لہرائے گی کچھ اور وہ آنکھ جسے دھُن ہے فروغِ گلِ تر کی موسم ہے گر ایسا ہی تو شرمائے گی کچھ اور نکلی ہی نہیں…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ فصیلوں پر سحر، صحنوں میں شب ہے
فصیلوں پر سحر، صحنوں میں شب ہے ہمارے شہر کا موسم عجب ہے وہ دیکھو ماہِ رخشاں بادلوں سے لپٹ کر کس قدر محوِ طرب ہے پئے عرفانِ منزل، گمرہوں کو کہیں ہم جو بھی کچھ، لہو و لعب ہے کچھار اپنی بنا لو حفظِ جہاں کو نگر میں اب یہی جینے کا ڈھب ہے ہمارے ہی لئے کیوں ایک ماجد مزاجِ دہر میں رنج و تعب ہے
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ شاہیں پہ بندھ رہا تھا نشانہ، کمان کا
شاہیں پہ بندھ رہا تھا نشانہ، کمان کا خیمہ مگر اُڑا کسی چڑیا کی جان کا آئے گی کب، کہاں سے، نجانے نمِ یقیں ہٹتا نہیں نظر سے بگولا گمان کا اونچا اُڑا، تو سمتِ سفر کھو کے رہ گئی رُخ ہی بدل گیا، مری سیدھی اُڑان کا کیا جانیے، ہَوا کے کہے پر بھی کب کھلے مشتِ خسیس سا ہے چلن، بادبان کا ہم پَو پَھٹے بھی، دھُند کے باعث نہ اُڑ سکے یوں بھی کھُلا کِیا ہے، عناد آسمان کا ماجدؔ نفس نفس ہے گراں بار اِس طرح…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ وقت دکھا دے شاید کوئی بھولی بسری شام
وقت دکھا دے شاید کوئی بھولی بسری شام شام کوئی اُس کی آنکھوں میں کاجل جیسی شام چہرہ چہرہ سہم سے یوں بیدم ہے جیسے آج جسم چچوڑنے آئی ہو نگری میں اُتری شام سُکھ سپنوں کے پیڑ پہ ہے پھر چڑیوں جیسا شور پھر پھنکار اُٹھی جیسے ناگن سی بپھری شام کرب و الم کا نحس گہن یوں دن پر پھیل گیا آج کی شام سے آن ملی محشر سی گزری شام کیا کیا حدّت کس کس ذرّے نے ہتھیائی ہے پوچھ کے آئی سورج کے پہلو سے نکلی…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ ہونا کیا ہے اِس کے شور مچانے سے
ہونا کیا ہے اِس کے شور مچانے سے دل بالک، من جائے گا بہلانے سے ٹھہرا ہے بہتان کہاں نام اچّھوں کے اُجڑا ہے کب چاند بھلا گہنانے سے راس جسے دارو نہ کوئی آیا اُس کے روگ مٹیں گے، اب تعویذ پلانے سے چیخ میں کیا کیا درد پروئے چُوزے نے بھوکی چیل کے پنجوں میں آ جانے سے اب تو خدشہ یہ ہے ہونٹ نہ جل جائیں ماجدؔ دل کی بات زباں پر لانے سے
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ شبِ سیاہ میں جگنو سا جو نگاہ میں ہے
شبِ سیاہ میں جگنو سا جو نگاہ میں ہے اُسی سے تابِ سفر عزم کی سپاہ میں ہے ذرا سا ہے پہ نہ ہونے کا اور ہونے کا ثبوت ہے تو فقط خواہشِ گناہ میں ہے جو بے ضرر ہے اُسے جبر سے اماں کیسی یہاں تو جبر ہی بس جبر کی پناہ میں ہے زمیں کس آن نجانے تہِ قدم نہ رہے یہی گماں ہے جو لاحق تمام راہ میں ہے نجانے نرغۂ گرگاں سے کب نکل پائے کنارِ دشت جو خیمہ، شبِ سیاہ میں ہے بڑھائیں مکر سے…
Read More