ماجد صدیقی ۔۔۔ کوئی نشانِ سکوں آنکھ کی فضا میں نہیں

کوئی نشانِ سکوں آنکھ کی فضا میں نہیں یہ کیا ہُوا کہ بجز اشک نم ہَوا میں نہیں لگاؤں چوٹ نہ کیوں میں بھی چوٹ کے بدلے قصاص میں جو مزہ ہے وہ خوں بہا میں نہیں رگوں میں دوڑتے خوں تک سے بدگمان ہیں ہم مراد یہ کہ یقیں قربتِ خدا میں نہیں نمو شجر کی نہ ڈھونڈو برستے ژالوں میں کہ مسئلے کا جو حل ہے فقط سزا میں نہیں ترے سخن میں چبھن جس طرح کی ہے ماجد کسک یہ اور کسی بھی غزل سرا میں نہیں

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ سرفرازی بھی دے خجالت بھی

سرفرازی بھی دے خجالت بھی دے شرف تخت، دے رزالت بھی منصف و مدّعی ہے زور آور آپ اپنی کرے وکالت بھی چھُوٹتے ہی جو وار کر ڈالے نام اُسی کے لگے بسالت بھی ہم نے دیکھے ہیں بر سرِ عالم قتل مِن جانبِ عدالت بھی وہ کہ جو بے خطا ہے، اندر سے خون کھولائے اُس کی حالت بھی ضد ہو میزانِ عدل جب ماجد! کیا کرے بحث کی طوالت بھی

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ رُت وہ کیوں ہو بھلا قبول مجھے

رُت وہ کیوں ہو بھلا قبول مجھے آگ لگتے ہوں جس کے پھول مجھے جس سے ٹھہرا تھا میں بہشت بدر سخت مہنگی پڑی وہ بھُول مجھے بزم در بزم، کرب کا اظہار کر نہ دے اور بھی ملول مجھے بات کی میں نے جب مرّوت کی وہ سُجھانے لگے اصول مجھے دیکھ کر دشت میں بھی طالبِ گل گھُورتے رہ گئے ببول مجھے جس کا ابجد ہی اور سا کچھ تھا بھُولتا کب ہے وہ سکول مجھے

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ وہ کہ جو دھونس جمانے آگ سا برسا ہے

وہ کہ جو دھونس جمانے آگ سا برسا ہے کہتے ہیں ہم محتاجوں کا مسیحا ہے بہرِ تحفّظ، گنتی کی کچھ راتوں کو بھیڑ نے چِیتے کو مہماں ٹھہرایا ہے جو چڑیا سونے کا انڈا دیتی تھی غاصب اب کے اُس چڑیا پر جھپٹا ہے کیا کہیے کس کس نے مستقبل اپنا ہاتھ کسی کے کیونکر گروی رکھا ہے بپھری خلق کے دھیان کو جس نے بدلا وہ شعبدہ بازوں کی ڈفلی کا کرشمہ ہے چودھری اور انداز سے خانہ بدوشوں سے اپنا بھتّہ ہتھیانے آ پہنچا ہے

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ رہن جن کے عوض ہو متاعِ انا ،ہیں شرف کی مجھے وہ قبائیں ملیں

رہن جن کے عوض ہو متاعِ انا ،ہیں شرف کی مجھے وہ قبائیں ملیں میں وہ بد بخت فرزندِ اجداد ہُوں جس کو ورثے میں ہوں التجائیں ملیں دیر تھی گر تو اتنی کہ نکلے نہ تھے بال و پر اور جب یوں بھی ہونے لگا فصل کٹنے پہ کھیتوں سی اُجٹری ہوئی کیا سے کیا کچھ نہ رنجور مائیں ملیں بخت کسبِ سعادت میں بھی کیا کہوں صیدِ اضداد ٹھہرا ہے کچھ اِس طرح دیس ماتا کی خفگی سے رد ہو گئیں ماں کی جانب سے جتنی دعائیں ملیں…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ عرش سے رُخ جانبِ دنیائے دُوں کرنا پڑا

عرش سے رُخ جانبِ دنیائے دُوں کرنا پڑا بندگی میں کیا سے کیا یہ سر نگوں کرنا پڑا مِنّتِ ساحل بھی سر لے لی بھنور میں ڈولتے ہاں یہ حیلہ بھی ہمیں بہرِسکوں کرنا پڑا سامنے اُس یار کے بھی اور سرِ دربار بھی ایک یہ دل تھا جسے ہر بار خوں کرنا پڑا ہم کہ تھے اہلِ صفا یہ راز کس پر کھولتے قافلے کا ساتھ آخر ترک کیوں کرنا پڑا خم نہ ہو پایا تو سر ہم نے قلم کروا لیا وُوں نہ کچھ ماجد ہُوا ہم سے…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ سر پہ کیا کیا بوجھ روز افزوں نظر آنے لگے

سر پہ کیا کیا بوجھ روز افزوں نظر آنے لگے عمر ڈھل جانے لگی اور قرض بڑھ جانے لگے بحر میں حالات کے، بے رحم موجیں دیکھ کر اژدہے کچھ اور ہی آنکھوں میں لہرانے لگے مِہر کے ڈھلنے، نکلنے پر کڑکتی دھوپ سے گرد کے جھونکے ہمیں کیا کیا نہ سہلانے لگے تُند خوئی پر ہواؤں کی، بقا کی بھیک کو برگ ہیں پیڑوں کے کیا کیا، ہاتھ پھیلانے لگے وحشتِ انساں کبھی خبروں میں یوں غالب نہ تھی لفظ جو بھی کان تک پہنچے وہ دہلانے لگے چھُو…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ راگنیوں سے بے بہرہ سُر تالوں جیسے

راگنیوں سے بے بہرہ سُر تالوں جیسے کام مرے، کانٹوں میں اُلجھے بالوں جیسے دھڑکن دھڑکن بے تابی ہے اور جیون کے لمحے بوجھل قدموں، ٹھِٹھرے سالوں جیسے اندر بعض گھروں میں سیم و زر کی بارش باہر کے احوال سبھی کنگالوں جیسے دھُند سے نکلے کیونکر پار، مسافت اُن کی رہبر جنہیں میّسر ہوں، نقّالوں جیسے اپنے ہاں کے حبس کی بپتا بس اتنی ہے آنکھوں آنکھوں اشک ہیں ماجدؔ چھالوں جیسے

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ دل سے تیروں کا اور کمانوں کا

دل سے تیروں کا اور کمانوں کا خوف جاتا نہیں مچانوں کا ایک ہی گھر کے فرد ہیں ہم تم فرق رکھتے ہیں پر زبانوں کا رُت بدلنے کی کیا بشارت دے ایک سا رنگ گلستانوں کا کون اپنا ہے اِک خدا وہ بھی رہنے والا ہے آسمانوں کا بات ماجدؔ کی پُوچھتے کیا ہو شخص ہے اِک گئے زمانوں کا

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ دیکھنا ہر سمت سیلِ فتنہ و شر دیکھنا

دیکھنا ہر سمت سیلِ فتنہ و شر دیکھنا مادۂ آتش سے پُر اپنے سمندر دیکھنا پچھلی ساعت کربلاؤں سا ہُوا جو رُو نما ہے ہمیں سکرین پر گھر میں وہ منظر دیکھنا اِس سے پہلے تو کوئی بھی ٹڈّی دَل ایسا نہ تھا اب کے جو پرّاں فضا میں ہیں وہ اخگر دیکھنا فاختائیں فاختاؤں کو کریں تلقینِ امن مضحکہ موزوں ہُوا یہ بھی ہمِیں پر دیکھنا کیا کہیں آنکھوں پہ اپنی جانے کب سے قرض تھا جسم میں اُترا کم اندیشی کا خنجر دیکھنا کچھ نہیں جن میں معانی…

Read More