ماجد صدیقی ۔۔۔ خلق چاہے اُسے حسین کوئی، وقت با صورتِ دگر دے دے

خلق چاہے اُسے حسین کوئی، وقت با صورتِ دگر دے دے ہاتھ دستِ یزید میں جو نہ دے حق سرائی میں اپنا سر دے دے اہلِ حق کو جو فتحِ مکہ دے اے خدا تجھ سے کچھ بعید نہیں اشک ہیں جس طرح کے آنکھوں میں دامنوں کو وہی گہر دے دے ہوں بھسم آفتوں کے پرکالے بُوندیوں میں بدل چلیں ژالے جو بھی واماندگانِ گلشن ہیں رُت انہیں پھر سے بال و پر دے دے لَوث جس کونہ چھُو کے گزری ہو جس میں خُو خضرِ دستگیر کی ہو…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ دھوکا تھا ہر اِک برگ پہ ٹوٹے ہوئے پر کا

دھوکا تھا ہر اِک برگ پہ ٹوٹے ہوئے پر کا وا جس کے لیے رہ گیا دامان ، شرر کا میں اشک ہوں، میں اوس کا قطرہ ہوں، شرر ہوں انداز بہم ہے مجھے پانی کے سفر کا کروٹ سی بدلتا ہے اندھیرا تو اُسے بھی دے دیتے ہیں ہم سادہ منش، نام سحر کا تہمت سی لئے پھرتے ہیں صدیوں سے سر اپنے رُسوا ہے بہت نام یہاں اہلِ ہُنر کا قائم نہ رہا خاک سے جب رشتۂ جاں تو بس دھول پتہ پوچھنے آتے تھی شجر کا جو…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ خلقتِ شہر کو بے زباں دیکھنا

خلقتِ شہر کو بے زباں دیکھنا چاہتا تھا وہ ایسا سماں دیکھنا تِیر ہوتا ہے دیکھیں ترازو کہاں تن چکی پھر فلک کی کماں دیکھنا دو ہی منظر قفس میں بہم تھے ہمیں تِیلیاں دیکھنا۔۔۔۔آسماں دیکھنا بچپنے سے لگی ہے یہی دھُن ہمیں گل بہ گل آس کی تتلیاں دیکھنا کیوں وطیرہ ہی ماجد تِرا ہو گیا شاخِ گل سے جھڑی پتّیاں دیکھنا

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ ہمارے گرد ہے کیا جال سا یہ چالوں کا

ہمارے گرد ہے کیا جال سا یہ چالوں کا ملے جواب نہ اِس طرح کے سوالوں کا یہ ہم کہ گھونسلے جن کے ہیں زد پہ طوفاں کی لٹے گا چین ہمِیں سے خراب حالوں کا بہم پناہ ہمیشہ جنہیں ہے غاروں کی پھرا ہے اُن کی طرف رخ کہاں اجالوں کا دیا تو دینا پڑے گا ہمیں بھی لمحوں میں ہمارے نام ہے جو جو حساب سالوں کا کھُلا تو ہاتھ لگائیں گے سارے کانوں کو چمن میں حال ہے ماجد جو با کمالوں کا

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ ذِی نفس جو بھی ہے اُس کو جان کا کھٹکا لگا

ذِی نفس جو بھی ہے اُس کو جان کا کھٹکا لگا بھیڑیوں کی دھاڑ سے ہے دشت بھر دِبکا لگا اِس طرح کرنے سے اُٹّھے گی عمارت اور بھی سرفرازی چاہیے تو اور بھی پیسا لگا جان لے اخلاق سے ہٹ کر بھی کچھ آداب ہیں مختصر یہ ہے کہ جتنا ہو سکے مسکا لگا نرخ اِس یوسف کے اَنٹی سے بھی ارزاں ہو گئے آدمی ہی جس طرف دیکھا ہمیں سستا لگا لُو چلی تو، وہ کہ منکر تندیِ موسم کے تھے چیخنا اُن کا ہم اہلِ دل کو…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ خاص ہے اُس سے جو اِک داؤ چل جائے گا

خاص ہے اُس سے جو اِک داؤ چل جائے گا چڑیا کے بچّوں کو سانپ، نِگل جائے گا ایک شڑاپ سے پانی صید دبوچ کے اپنا بے دم کر کے اُس کو، دُور اُگل جائے گا اُس کے تلے کی مٹی تک، بے فیض رہے گی اِس دُنیا سے جو بھی درخت اَپَھل جائے گا خوف دلائے گا اندھیارا مارِ سیہ کا مینڈک سا، پیروں کو چھُو کے اُچھل جائے گا سُورج اپنے ساتھ سحر تو لائے گا پر کُٹیا کُٹیا ایک الاؤ جل جائے گا کب تک عرضِ تمنّا…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ جب سے اہلِ حرص کو کچھ کچھ ثمر ملنے لگے

جب سے اہلِ حرص کو کچھ کچھ ثمر ملنے لگے باغ میں کھوؤں سے کھوئے جا بجا چھِلنے لگے مسندِ انصاف جب سے گُرگ کو حاصل ہوئی آسماں اور یہ زمیں اِک ساتھ ہیں ہلنے لگے کیا خبر برسائے جائیں گے وہ کس نااہل پر پھول پودوں پر بڑی خسّت سے اب کھِلنے لگے بے بصر کرنے لگی ماجد گماں کی تیرگی خوف کی سوزن چلی ایسی کہ لب سلنے لگے

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ گیا تو باغ کا رشتہ فنا سے جوڑ گیا

گیا تو باغ کا رشتہ فنا سے جوڑ گیا وہ پیڑ پیڑ پہ آکاس بیل چھوڑ گیا سہاگ جن سے تھا منسوب لطفِ فردا کا کلائیاں ہیں کچھ ایسی بھی وہ مروڑ گیا اُسے عزیز تھا پرچار اپنے باطل کا سو جو بھی چشم تھی حق بِیں، اُسے وہ پھوڑ گیا جفا پرست وہ ایسا تھا جو خلافِ ستم دلوں میں عزم تھے جتنے اُنہیں جھنجھوڑ گیا رہا بھی اُس سے تو بس لین دین نفرت کا سو،لے کے لاکھ، ہمیں دے کے وہ کروڑ گیا

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ کیا خبر کیا کچھ کوئی دیکھے یہاں

کیا خبر کیا کچھ کوئی دیکھے یہاں کس کا نوحہ کون کب لکھے یہاں ظاہری عنوان: اِک دینِ مبیں اور اندر ہیں کئی شجرے یہاں سب کے سب خود کو جِلا دیتے رہے ہیں مسیحا جس قدر اُترے یہاں اپنی قامت پر قد آور سب خفیف ذی شرف ہیں سب کے سب بونے یہاں ہم سے جو کھیلے وہ ماجد اور ہے ہم سبھی ہیں تاش کے پتّے یہاں

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ کھیتیاں خشک اور آبیانے وہی

کھیتیاں خشک اور آبیانے وہی آج بھی جبر کے ہیں زمانے وہی خم وہی رہ بہ رہ نا مرادوں کے سر کُو بہ کُو ذی شرف آستانے وہی فاختائیں دبکتی شجر در شجر اور زور آوروں کے نشانے وہی رام کرنے کو مرکب کا زورِ انا دستِ راکب میں ہیں تازیانے وہی شیر کی دھاڑ پر جستجو اوٹ کی اور چھپنے کو ماجد ٹھکانے وہی

Read More