محمد علوی ۔۔۔ اندھیرے کی دیوار بن کے گرا  

اچانک تری یاد کا سلسلہ اندھیرے کی دیوار بن کے گرا ابھی کوئی سایہ نکل آئے گا ذرا جسم کو روشنی تو دکھا پڑا تھا درختوں تلے ٹوٹ کر چمکتی ہوئی دھوپ کا آئنا کوئی اپنے گھر سے نکلتا نہیں عجب حال ہے آج کل شہر کا میں اس کے بدن کی مقدس کتاب نہایت عقیدت سے پڑھتا رہا یہ کیا آپ پھر شعر کہنے لگے ارے یار علوی یہ پھر کیا ہوا

Read More

محمد علوی ۔۔۔ کیوں نہ مہکیں گلاب آنکھوں میں

کیوں نہ مہکیں گلاب آنکھوں میں ہم نے رکھے ہیں خواب آنکھوں میں رات آئی تو چاند سا چہرہ لے کے آیا شراب آنکھوں میں دیکھو ہم اک سوال کرتے ہیں لکھ کے رکھنا جواب آنکھوں میں اس میں خطرہ ہے ڈوب جانے کا جھانکیے مت جناب آنکھوں میں کبھی آنکھیں کتاب میں گم ہیں کبھی گم ہے کتاب آنکھوں میں کوئی رہتا تھا رات دن علوی انھی خانہ خراب آنکھوں میں

Read More

محمد علوی ۔۔۔ دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوں

دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوں اب رات کے دریا میں پڑا ڈوب رہا ہوں اب تک میں وہیں پر ہوں جہاں سے میں چلا ہوں آواز کی رفتار سے کیوں بھاگ رہا ہوں رکھتے ہو اگر آنکھ تو باہر سے نہ دیکھو دیکھو مجھے اندر سے بہت ٹوٹ چکا ہوں یہ سب تری مہکی ہوئی زلفوں کا کرم ہے اک سانس میں اک عمر کے دکھ بھول گیا ہوں تو جسم کے اندر ہے کہ باہر ہے، کدھر ہے علوی مری جاں کب سے تجھے ڈھونڈ…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ دھوپ میں سب رنگ گہرے ہو گئے

دھوپ میں سب رنگ گہرے ہو گئے تتلیوں کے پر سنہرے ہو گئے سامنے دیوار پر کچھ داغ تھے غور سے دیکھا تو چہرے ہو گئے اب نہ سن پائیں گے ہم دل کی پکار سنتے سنتے کان بہرے ہو گئے اب کسی کی یاد بھی آتی نہیں دل پہ اب فکروں کے پہرے ہو گئے آؤ علوی اب تو اپنے گھر چلیں دن بہت دلی میں ٹھہرے ہو گئے

Read More

محمد علوی ۔۔۔ ابھی تو اور بھی دن بارشوں کے آنے تھے

ابھی تو اور بھی دن بارشوں کے آنے تھے کرشمے سارے اسے آج ہی دکھانے تھے حقارتیں ہی ملیں ہم کو زنگ آلودہ دلوں میں یوں تو کئی قسم کے خزانے تھے یہ دشت تیل کا پیاسا نہ تھا خدا وندا یہاں تو چار چھ دریا ہمیں بہانے تھے کسی سے کوئی تعلق رہا نہ ہو جیسے کچھ اس طرح سے گزرتے ہوئے زمانے تھے پرندے دور فضاؤں میں کھو گئے علوی اُجاڑ اُجاڑ درختوں پہ آشیانے تھے

Read More

محمد علوی ۔۔۔ آیا ہے ایک شخص عجب آن بان کا

آیا ہے ایک شخص عجب آن بان کا نقشہ بدل گیا ہے پرانے مکان کا تارے سے ٹوٹتے ہیں ابھی تک ادھر ادھر باقی ہے کچھ نشہ ابھی کل کی اڑان کا کالک سی جم رہی ہے چمکتی زمین پر سورج سے جل اٹھا ہے ورق آسمان کا دریا میں دور دور تلک کشتیاں نہ تھیں خطرہ نہ تھا ہوا کو کسی بادبان کا دونوں کے دل میں خوف تھا میدانِ جنگ میں دونوں کا خوف فاصلہ تھا درمیان کا علوی کواڑ کھول کے دیکھا تو کچھ نہ تھا وہ…

Read More

محمد علوی … رات کے منہ پر اجالا چاہیئے

رات کے منہ پر اجالا چاہیئے چور کے گھر میں بھی تالا چاہیئے غم بہت دن مفت کی کھاتا رہا اب اسے دل سے نکالا چاہیئے پاؤں میں جوتی نہ ہو تو کچھ نہیں ہاں مگر ایک آدھ چھالا چاہیئے ہاتھ پھیلانے سے کچھ ملتا نہیں بھیک لینے کو پیالہ چاہیئے یاد ان کی یوں نہ جائے گی اسے کچھ بہانا کر کے ٹالا چاہیئے شاعری مانگے ہے پورا آدمی اب اسے بھی مونچھ والا چاہیئے

Read More

محمد علوی ۔۔۔ کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر

کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر اب اور اپنے آپ کو مت پائمال کر مرنے کے ڈر سے اور کہاں تک جیے گا تو جینے کے دن تمام ہوئے، انتقال کر اک یاد رہ گئی ہے مگر وہ بھی کم نہیں اک درد رہ گیا ہے سو رکھنا سنبھال کر دیکھا تو سب کے سر پہ گناہوں کا بوجھ تھا خوش تھے تمام نیکیاں دریا میں ڈال کر خواجہ کے در سے کوئی بھی خالی نہیں گیا آیا ہے اتنے دور تو علوی سوال کر

Read More

محمد علوی

کتنی اچھی لڑکی ہے! برسوں بھول نہ پائیں گے

Read More