محمد علوی ۔۔۔ کبھی تو ایسا بھی ہو راہ بھول جاؤں میں

کبھی تو ایسا بھی ہو راہ بھول جاؤں میں نکل کے گھر سے نہ پھر اپنے گھر میں آؤں میں بکھیر دے مجھے چاروں طرف خلاؤں میں کچھ اس طرح سے الگ کر کہ جڑ نہ پاؤں میں یہ جو اکیلے میں پرچھائیاں سی بنتی ہیں بکھر ہی جائیں گی لیکن کسے دکھاؤں میں مرا مکان اگر بیچ میں نہ آئے تو ان اونچے اونچے مکانوں کو پھاند جاؤں میں گواہی دیتا وہی میری بے گناہی کی وہ مر گیا تو اسے اب کہاں سے لاؤں میں یہ زندگی تو…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ زمیں کہیں بھی نہ تھی چار سو سمندر تھا

زمیں کہیں بھی نہ تھی چار سو سمندر تھا کسے دکھاتے بڑا ہول ناک منظر تھا لڑھک کے میری طرف آ رہا تھا اک پتھر پھر ایک اور پھر اک اور بڑا سا پتھر تھا فصیلیں دل کی گراتا ہوا جو در آیا وہ کوئی اور نہ تھا خواہشوں کا لشکر تھا بلا رہا تھا کوئی چیخ چیخ کر مجھ کو کنویں میں جھانک کے دیکھا تو میں ہی اندر تھا بہت سے ہاتھ اگ آئے تھے میری آنکھوں میں ہر ایک ہاتھ میں اک نوک دار خنجر تھا وہ…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ خواب میں ایک مکاں دیکھا تھا

خواب میں ایک مکاں دیکھا تھا پھر نہ کھڑکی تھی نہ دروازہ تھا سونے رستے پہ سر شام کوئی گھر کی یادوں میں گھرا بیٹھا تھا لوگ کہتے ہیں کہ مجھ سا تھا کوئی وہ جو بچوں کی طرح رویا تھا رات تھی اور کوئی ساتھ نہ تھا چاند بھی دور کھڑا ہنستا تھا ایک میلا سا لگا تھا دل میں میں اکیلا ہی پھرا کرتا تھا ایسا ہنگامہ نہ تھا جنگل میں شہر میں آئے تو ڈر لگتا تھا غم کے دریا میں تری یادوں کا اک جزیرہ سا…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ اس شہر میں کہیں پہ ہمارا مکاں بھی ہو

اس شہر میں کہیں پہ ہمارا مکاں بھی ہو بازار ہے تو ہم پہ کبھی مہرباں بھی ہو جاگیں تو آس پاس کنارا دکھائی دے دریا ہو پر سکون، کھلا بادباں بھی ہو اک دوست ایسا ہو کہ مری بات بات کو سچ مانتا ہو اور ذرا بد گماں بھی ہو رستے میں ایک پیڑ ہو تنہا کھڑا ہوا اور اس کی ایک شاخ پہ اک آشیاں بھی ہو اس سے ملے زمانہ ہوا لیکن آج بھی دل سے دعا نکلتی ہے خوش ہو جہاں بھی ہو ہم اس جگہ…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ آنکھ میں دہشت نہ تھی ہاتھ میں خنجر نہ تھا

آنکھ میں دہشت نہ تھی ہاتھ میں خنجر نہ تھا سامنے دشمن تھا پر دل میں کوئی ڈر نہ تھا اس سے بھی مل کر ہمیں مرنے کی حسرت رہی اس نے بھی جانے دیا وہ بھی ستم گر نہ تھا اک پہاڑی پہ میں بیٹھا رہا دیر تک شوق سے دیکھا کروں ایسا بھی منظر نہ تھا ہم سے جو آگے گئے کتنے مہربان تھے دور تلک راہ میں ایک بھی پتھر نہ تھا رات بہت دیر سے آنکھ لگتی تھی ذرا نیند میں کمرہ نہ تھا خواب میں…

Read More

محمد علوی

اندھوں نے بلوایا ہے بھیس بدل کر جانا ہے

Read More

محمد علوی ۔۔۔ گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں

گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں ہمیں یہ تتلیاں اچھی لگی ہیں گلی میں کوئی گھر اچھا نہیں تھا مگر کچھ کھڑکیاں اچھی لگی ہیں نہا کر بھیگے بالوں کو سکھاتی چھتوں پر لڑکیاں اچھی لگی ہیں حنائی ہاتھ دروازے سے باہر اور اس میں چوڑیاں اچھی لگی ہیں بچھڑتے وقت ایسا بھی ہوا ہے کسی کی سسکیاں اچھی لگی ہیں حسینوں کو لیے بیٹھیں ہیں علوی تبھی تو کرسیاں اچھی لگی ہیں

Read More

محمد علوی ۔۔۔ ہزاروں لاکھوں دلی میں مکاں ہیں

ہزاروں لاکھوں دلی میں مکاں ہیں مگر پہچاننے والے کہاں ہیں کہیں پر سلسلہ ہے کوٹھیوں کا کہیں گرتے کھنڈر ہیں، نالیاں ہیں کہیں ہنستی چمکتی صورتیں ہیں کہیں مٹتی ہوئی پرچھائیاں ہیں کہیں آواز کے پردے پڑے ہیں کہیں چپ میں کئی سرگوشیاں ہیں قطب صاحب کھڑے ہیں سر جھکائے قلعے پر گدھ بہت ہی شادماں ہیں ارے یہ کون سی سڑکیں ہیں بھائی یہاں تو لڑکیاں ہی لڑکیاں ہیں لکھا ملتا ہے دیواروں پہ اب بھی تو کیا اب بھی وہی بیماریاں ہیں حوالوں پر حوالے دے رہے…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ کیا کہتے کیا جی میں تھا

کیا کہتے کیا جی میں تھا شور بہت بستی میں تھا پہلی بوند گری ٹپ سے پھر سب کچھ پانی میں تھا چھتیں گریں گھر بیٹھ گئے زور ایسا آندھی میں تھا موجیں ساحل پھاند گئیں دریا گلی گلی میں تھا میری لاش نہیں ہے یہ کیا اتنا بھاری میں تھا آخر طوفاں گزر گیا دیکھا تو باقی میں تھا چھوڑ گیا مجھ کو علوی شاید وہ جلدی میں تھا

Read More

محمد علوی ۔۔۔ تیسری آنکھ کھلے گی تو دکھائی دے گا

تیسری آنکھ کھلے گی تو دکھائی دے گا اور کے دن مرا ہم زاد جدائی دے گا وہ نہ آئے گا مگر دل یہ کہے جاتا ہے اس کے آنے کا ابھی شور سنائی دے گا دل کا آئینہ ہوا جاتا ہے دھندلا دھندلا کب ترا عکس اسے اپنی صفائی دے گا خوش تھا میں چہرے پہ آنکھوں کو سجا کر لیکن کیا خبر تھی مجھے کچھ بھی نہ سجھائی دے گا اپنے ہی خون میں آلودہ کیے بیٹھا ہوں کون اس ہاتھ میں اب دستِ حنائی دے گا موت…

Read More