کبھی تو ایسا بھی ہو راہ بھول جاؤں میں نکل کے گھر سے نہ پھر اپنے گھر میں آؤں میں بکھیر دے مجھے چاروں طرف خلاؤں میں کچھ اس طرح سے الگ کر کہ جڑ نہ پاؤں میں یہ جو اکیلے میں پرچھائیاں سی بنتی ہیں بکھر ہی جائیں گی لیکن کسے دکھاؤں میں مرا مکان اگر بیچ میں نہ آئے تو ان اونچے اونچے مکانوں کو پھاند جاؤں میں گواہی دیتا وہی میری بے گناہی کی وہ مر گیا تو اسے اب کہاں سے لاؤں میں یہ زندگی تو…
Read MoreTag: Alvi
محمد علوی ۔۔۔ آنکھ میں دہشت نہ تھی ہاتھ میں خنجر نہ تھا
آنکھ میں دہشت نہ تھی ہاتھ میں خنجر نہ تھا سامنے دشمن تھا پر دل میں کوئی ڈر نہ تھا اس سے بھی مل کر ہمیں مرنے کی حسرت رہی اس نے بھی جانے دیا وہ بھی ستم گر نہ تھا اک پہاڑی پہ میں بیٹھا رہا دیر تک شوق سے دیکھا کروں ایسا بھی منظر نہ تھا ہم سے جو آگے گئے کتنے مہربان تھے دور تلک راہ میں ایک بھی پتھر نہ تھا رات بہت دیر سے آنکھ لگتی تھی ذرا نیند میں کمرہ نہ تھا خواب میں…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ ہزاروں لاکھوں دلی میں مکاں ہیں
ہزاروں لاکھوں دلی میں مکاں ہیں مگر پہچاننے والے کہاں ہیں کہیں پر سلسلہ ہے کوٹھیوں کا کہیں گرتے کھنڈر ہیں، نالیاں ہیں کہیں ہنستی چمکتی صورتیں ہیں کہیں مٹتی ہوئی پرچھائیاں ہیں کہیں آواز کے پردے پڑے ہیں کہیں چپ میں کئی سرگوشیاں ہیں قطب صاحب کھڑے ہیں سر جھکائے قلعے پر گدھ بہت ہی شادماں ہیں ارے یہ کون سی سڑکیں ہیں بھائی یہاں تو لڑکیاں ہی لڑکیاں ہیں لکھا ملتا ہے دیواروں پہ اب بھی تو کیا اب بھی وہی بیماریاں ہیں حوالوں پر حوالے دے رہے…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ کل رات سونی چھت پہ عجب سانحہ ہوا
کل رات سونی چھت پہ عجب سانحہ ہوا جانے دو یار کون بتائے کہ کیا ہوا نظروں سے ناپتا ہے سمندر کی وسعتیں ساحل پہ اک شخص اکیلا کھڑا ہوا لمبی سڑک پہ دور تلک کوئی بھی نہ تھا پلکیں جھپک رہا تھا دریچہ کھلا ہوا مانا کہ تو ذہین بھی ہے خوب رو بھی ہے تجھ سا نہ میں ہوا تو بھلا کیا برا ہوا دن ڈھل رہا تھا جب اسے دفنا کے آئے تھے سورج بھی تھا ملول زمیں پر جھکا ہوا کیا ظلم ہے کہ شہر میں…
Read Moreدِلی جو ایک شہر تھا ۔۔۔ محمد علوی
دِلّی جو ایک شہر تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جامع مسجد بُلاتی رہی میں نہ پہنچا تو سارا قلعہ مارے غصے کے لال ہو گیا نئی دِلی کی سڑکوں پہ پھرتی ہوئی لڑکیاں مجھ سے ملنے کی خواہش لیے، سو کو بالوں سے آزاد کر کے ننگے بدن، ننگے سر سو گئیں اور کیا کیا ہوا، یاد آتا نہیں! ہاں مگر یاد ہے، اب بھی اچھی طرح یاد ہے، چاندنی چوک میں رات کو دو بجے چومنا ایک کو ایک کا اک حماقت ۔۔۔۔ مگر پھر بھی کتنی حسیں! رات آئے تو پاتا…
Read Moreمحمد علوی
پڑا تھا مَیں اک پیڑ کی چھائوں میں لگی آنکھ تو آسمانوں میں تھا
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔۔۔۔۔ آفس میں بھی گھر کو کھلا پاتا ہوں میں
آفس میں بھی گھر کو کھلا پاتا ہوں میں ٹیبل پر سر رکھ کر سو جاتا ہوں میں گلی گلی میں اپنے آپ کو ڈھونڈتا ہوں اک اک کھڑکی میں اس کو پاتا ہوں میں اپنے سب کپڑے اس کو دے آتا ہوں اس کا ننگا جسم اٹھا لاتا ہوں میں بس کے نیچے کوئی نہیں آتا پھر بھی بس میں بیٹھ کے بے حد گھبراتا ہوں میں مرنا ہے تو ساتھ ساتھ ہی چلتے ہیں ٹھہر ذرا، گھر جا کے ابھی آتا ہوں میں گاڑی آتی ہے لیکن آتی…
Read Moreدستک ۔۔۔۔۔ محمد علوی
دستک ۔۔۔۔۔۔ اب بھی تنہائی میں کبھی دل کے سونے گوشے میں اک آہٹ سی ہوتی ہے کچھ کھٹ کھٹ سی ہوتی ہے جیسے رات گئے کوئی بِھڑے ہوئے دروازے پر دھیرے دھیرے دستک دے دیکھو تو کوئی نہ ملے!
Read Moreانتظار ۔۔۔۔۔ محمد علوی
انتظار ۔۔۔۔ اُسی رہگذر پر جہاں سے گزر کر نہ واپس ہوئے تم بچارا صنوبر جھکائے ہوئے سر اکیلا کھڑا ہے!
Read Moreمحمد علوی
مَیں اپنے آپ سے ڈرنے لگا تھا گلی کا شور گھر میں آ گیا تھا
Read More