سلام  ۔۔۔ تسنیم عابدی  

اک شہسوار سجدے کی خاطر روانہ ہو نیزوں پہ ہو بلند زمیں پر گرا نہ ہو ایسی بری ہوائیں نہ ایسا زمانہ ہو بیمار کی دوا ہو نہ ہی آب و دانہ ہو جس طرح سانس لینے کی خاطر ہوا نہ ہو "کچھ بھی ہو نہ ہو جہاں میں اگر کربلا نہ ہو” زخمِ جہاں پہ اشکوں کا مرہم لگا نہ ہو مر جائیں تیرے غم کا اگر آسرا نہ ہو اصغر کی لاش شاہ اٹھا لائے ہیں مگر امِ رباب ! کاش ترا سامنا نہ ہو زخمِ گلوئے حضرتِ…

Read More