جوہرِ عباس ۔۔۔ بارِ غم سے جو طبیعت کو گراں پاتے ہیں

بارِ غم سے جو طبیعت کو گراں پاتے ہیں کاشف الکربؑ کی دہلیز پہ جُھک جاتے ہیں چھوٹے حضرتؑ سے ہی سیکھا ہے بزرگوں کا ادب کورنش اِس لیے پرچم کو بجالاتے ہیں بچ کے چلتی ہے سدا بادِ حوادث اُن سے اِس علم کے جو پھریرے کی ہَوا پاتے ہیں مدحتِ آلِ محمّدؐ ہے فریضہ اپنا جن کا کھاتے ہیں فقط اُن کے ہی گُن گاتے ہیں چوم لے بڑھ کے قدم ہائے علمدارِ حُسینؑ علقمہ دیکھ! ترے روحِ رواں آتے ہیں کھینچتا ہے ہمہ دم حیدرِ کرّارؑ کا…

Read More