اب جو گھر اِن پہ گرا ہے تو کُھلے ہیں ، ورنہ یہ مکیں ، لگتا نہیں تھا ، کہ مکاں والے ہیں
Read MoreTag: شاہین عباس کی غزل
شاہین عباس
ہمیں توآتے جاتے ہی ملا ہے جب بھی دیکھا ہے یہ روزانہ کا جھونکا کیا پتہ کتنا پرانا ہے
Read Moreشاہین عباس
سمتوں کا اِس قدر خیال ؟ سمتوں کا اِس قدر ملال؟ چاروں کے بیچ بیٹھ کر ، چاروں کا غم کیا گیا
Read Moreشاہین عباس
کوئی تو بات ہے کہ دن آج بھی ختم ہو گیا یوں ہی یہ رات ہے رواں ، پھر بھی رواں یونہی نہیں
Read Moreشاہین عباس
رات اک دہلیز ایسی آ گئی تھی خواب میں رات کچھ کچھ اپنی پیشانی کا اندازہ ہوا
Read Moreشاہین عباس
شہر میں داخلے کی شرط ، جسم نہیں تھا ، روح تھی جسم کا جسم رکھ دیا ،سر سے کہیں اتار کر
Read Moreشاہین عباس
میں سیڑھیاں چڑھتا چلا جاتا ہوں کہ جالوں اوپر کی وہ تنہائی ، وہ اوپر کی اداسی
Read Moreشاہین عباس
حاشیے کے دونوں جانب نام ہیں ، اور صرف نام یہ جو خالی ہے جگہ ، یہ بھی کسی کا نام ہے
Read Moreشاہین عباس
عجب کیا وقت کا یہ آخری پھیرا ہو یاں پر گلی کوچے اب اِس رہ گیر سے تنگ آ گئے ہیں
Read Moreشاہین عباس
ہم تھے کہ رات دن کے داغ ، جیسے صدی صدی کے باغ یعنی گزرتے وقت کا ، ہم پہ بہت اثر ہوا
Read More