ہر انسان اپنی زندگی میں رنج و خوشی اور کرب و طرب سے گزرتا ہے۔ کسی فرد کو اس سے مفر نہیں۔ ہاں کچھ لوگ اسے ’خود نوشت‘ کے طور پر قلم بند کر کے بعد میں آنے والوں کے لیے محفوظ کر دیتے ہیں اور کچھ لوگ موقع بہ موقع زبانی طور پر اپنے واقعات و حالات بیان کر کے تسلی حاصل کر لیتے ہیں اور یوں ہی اپنے دل میں لیے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ خود نوشت کا تعلق غیر افسانوی نثر سے ہے۔…
Read MoreTag: AKHTARUL IMAN
اعتماد ۔۔۔ اخترالایمان
اعتماد ۔۔۔۔ بولی خود سر ہَوا: ایک ذرّہ ہے تُو یوں اُڑا دوں گی مَیں، موجِ دریا بڑھی بولی: میرے لیے ایک تنکا ہے تُو یوں بہا دوں گی مَیں، آتشِ تند کی اک لپٹ نے کہا: مَیں جلا ڈالوں گی اور زمیں نے کہا: مَیں نگل جائوں گی مَیں نے چہرے سے اپنے اُلٹ دی نقاب اور ہنس کر کہا: مَیں سلیمان ہوں ابنِ آدم ہوں مَیں، یعنی انسان ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: آب جو نیا ادارہ, لاہور
Read More