باقی احمد پوری ۔۔۔ سرد رت کی اداس تنہائی

سرد رت کی اداس تنہائی بے سبب رنج ، یاس، تنہائی اور کوئی نہیں ہے کوئی نہیں صرف ہے غم شناس تنہائی زرد موسم میں خوب پھلتے ہیں پیلی سرسوں، کپاس، تنہائی سالِ نو میں عروج پر ہوں گے ظلم ، خوف و ہراس ، تنہائی یاد آتی ہیں جھیل سی آنکھیں بڑھتی جاتی ہے پیاس تنہائی گرتے پتے شجر سے کہتے ہیں اب ہے تیرا لباس تنہائی دور جاتی نہیں مرے دل سے ہے یہیں آس پاس تنہائی جانے کب سے لگائے بیٹھی ہے تیرے ملنے کی آس ،…

Read More