باقی احمد پوری ۔۔۔ سرد رت کی اداس تنہائی

سرد رت کی اداس تنہائی بے سبب رنج ، یاس، تنہائی اور کوئی نہیں ہے کوئی نہیں صرف ہے غم شناس تنہائی زرد موسم میں خوب پھلتے ہیں پیلی سرسوں، کپاس، تنہائی سالِ نو میں عروج پر ہوں گے ظلم ، خوف و ہراس ، تنہائی یاد آتی ہیں جھیل سی آنکھیں بڑھتی جاتی ہے پیاس تنہائی گرتے پتے شجر سے کہتے ہیں اب ہے تیرا لباس تنہائی دور جاتی نہیں مرے دل سے ہے یہیں آس پاس تنہائی جانے کب سے لگائے بیٹھی ہے تیرے ملنے کی آس ،…

Read More

باقی احمد پوری ۔۔۔ لپکتی آگ کا دریا یہیں سے گزرے گا

غزل ابل رہا ہے جو لاوا یہیں سے گزرے گا لپکتی آگ کا دریا یہیں سے گزرے گا نظام ِ ظلمتِ  شب ختم ہونے والا ہے سنا ہے سرخ سویرا یہیں سے گزرے گا یہ سبز کھیت جنھیں ہم نے خود اجاڑ دیا ذرا سی دیر میں صحرا یہیں سے گزرے گا اسے خبر ہے کہ بزدل ہیں بستیوں والے وہ شہسوار اکیلا یہیں سے گزرے گا یہاں نہ گھر ہے نہ منزل نہ راستہ اس کا مگر وہ خاک اڑاتا یہیں سے گزرے گا قدم قدم پہ درختوں کا…

Read More