رُت وہ کیوں ہو بھلا قبول مجھے آگ لگتے ہوں جس کے پھول مجھے جس سے ٹھہرا تھا میں بہشت بدر سخت مہنگی پڑی وہ بھُول مجھے بزم در بزم، کرب کا اظہار کر نہ دے اور بھی ملول مجھے بات کی میں نے جب مرّوت کی وہ سُجھانے لگے اصول مجھے دیکھ کر دشت میں بھی طالبِ گل گھُورتے رہ گئے ببول مجھے جس کا ابجد ہی اور سا کچھ تھا بھُولتا کب ہے وہ سکول مجھے
Read MoreTag: Majid Siddiqui
ماجد صدیقی ۔۔۔ وہ کہ جو دھونس جمانے آگ سا برسا ہے
وہ کہ جو دھونس جمانے آگ سا برسا ہے کہتے ہیں ہم محتاجوں کا مسیحا ہے بہرِ تحفّظ، گنتی کی کچھ راتوں کو بھیڑ نے چِیتے کو مہماں ٹھہرایا ہے جو چڑیا سونے کا انڈا دیتی تھی غاصب اب کے اُس چڑیا پر جھپٹا ہے کیا کہیے کس کس نے مستقبل اپنا ہاتھ کسی کے کیونکر گروی رکھا ہے بپھری خلق کے دھیان کو جس نے بدلا وہ شعبدہ بازوں کی ڈفلی کا کرشمہ ہے چودھری اور انداز سے خانہ بدوشوں سے اپنا بھتّہ ہتھیانے آ پہنچا ہے
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ رہن جن کے عوض ہو متاعِ انا ،ہیں شرف کی مجھے وہ قبائیں ملیں
رہن جن کے عوض ہو متاعِ انا ،ہیں شرف کی مجھے وہ قبائیں ملیں میں وہ بد بخت فرزندِ اجداد ہُوں جس کو ورثے میں ہوں التجائیں ملیں دیر تھی گر تو اتنی کہ نکلے نہ تھے بال و پر اور جب یوں بھی ہونے لگا فصل کٹنے پہ کھیتوں سی اُجٹری ہوئی کیا سے کیا کچھ نہ رنجور مائیں ملیں بخت کسبِ سعادت میں بھی کیا کہوں صیدِ اضداد ٹھہرا ہے کچھ اِس طرح دیس ماتا کی خفگی سے رد ہو گئیں ماں کی جانب سے جتنی دعائیں ملیں…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ عرش سے رُخ جانبِ دنیائے دُوں کرنا پڑا
عرش سے رُخ جانبِ دنیائے دُوں کرنا پڑا بندگی میں کیا سے کیا یہ سر نگوں کرنا پڑا مِنّتِ ساحل بھی سر لے لی بھنور میں ڈولتے ہاں یہ حیلہ بھی ہمیں بہرِسکوں کرنا پڑا سامنے اُس یار کے بھی اور سرِ دربار بھی ایک یہ دل تھا جسے ہر بار خوں کرنا پڑا ہم کہ تھے اہلِ صفا یہ راز کس پر کھولتے قافلے کا ساتھ آخر ترک کیوں کرنا پڑا خم نہ ہو پایا تو سر ہم نے قلم کروا لیا وُوں نہ کچھ ماجد ہُوا ہم سے…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ سر پہ کیا کیا بوجھ روز افزوں نظر آنے لگے
سر پہ کیا کیا بوجھ روز افزوں نظر آنے لگے عمر ڈھل جانے لگی اور قرض بڑھ جانے لگے بحر میں حالات کے، بے رحم موجیں دیکھ کر اژدہے کچھ اور ہی آنکھوں میں لہرانے لگے مِہر کے ڈھلنے، نکلنے پر کڑکتی دھوپ سے گرد کے جھونکے ہمیں کیا کیا نہ سہلانے لگے تُند خوئی پر ہواؤں کی، بقا کی بھیک کو برگ ہیں پیڑوں کے کیا کیا، ہاتھ پھیلانے لگے وحشتِ انساں کبھی خبروں میں یوں غالب نہ تھی لفظ جو بھی کان تک پہنچے وہ دہلانے لگے چھُو…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ راگنیوں سے بے بہرہ سُر تالوں جیسے
راگنیوں سے بے بہرہ سُر تالوں جیسے کام مرے، کانٹوں میں اُلجھے بالوں جیسے دھڑکن دھڑکن بے تابی ہے اور جیون کے لمحے بوجھل قدموں، ٹھِٹھرے سالوں جیسے اندر بعض گھروں میں سیم و زر کی بارش باہر کے احوال سبھی کنگالوں جیسے دھُند سے نکلے کیونکر پار، مسافت اُن کی رہبر جنہیں میّسر ہوں، نقّالوں جیسے اپنے ہاں کے حبس کی بپتا بس اتنی ہے آنکھوں آنکھوں اشک ہیں ماجدؔ چھالوں جیسے
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ دل سے تیروں کا اور کمانوں کا
دل سے تیروں کا اور کمانوں کا خوف جاتا نہیں مچانوں کا ایک ہی گھر کے فرد ہیں ہم تم فرق رکھتے ہیں پر زبانوں کا رُت بدلنے کی کیا بشارت دے ایک سا رنگ گلستانوں کا کون اپنا ہے اِک خدا وہ بھی رہنے والا ہے آسمانوں کا بات ماجدؔ کی پُوچھتے کیا ہو شخص ہے اِک گئے زمانوں کا
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ دیکھنا ہر سمت سیلِ فتنہ و شر دیکھنا
دیکھنا ہر سمت سیلِ فتنہ و شر دیکھنا مادۂ آتش سے پُر اپنے سمندر دیکھنا پچھلی ساعت کربلاؤں سا ہُوا جو رُو نما ہے ہمیں سکرین پر گھر میں وہ منظر دیکھنا اِس سے پہلے تو کوئی بھی ٹڈّی دَل ایسا نہ تھا اب کے جو پرّاں فضا میں ہیں وہ اخگر دیکھنا فاختائیں فاختاؤں کو کریں تلقینِ امن مضحکہ موزوں ہُوا یہ بھی ہمِیں پر دیکھنا کیا کہیں آنکھوں پہ اپنی جانے کب سے قرض تھا جسم میں اُترا کم اندیشی کا خنجر دیکھنا کچھ نہیں جن میں معانی…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ شہر پہ جانے کس افتاد کی گھڑیاں آنے والی ہیں
شہر پہ جانے کس افتاد کی گھڑیاں آنے والی ہیں خبروں پر مامور ہوئیں جتنی بھی زبانیں کالی ہیں ساحل کو چھو لینے پر بھی سفلہ پن دکھلانے کو دریاؤں نے کیا کیا موجیں اب کے اور اچھالی ہیں گلیوں گلیوں دستک دیتے، امن کی بھیک نہ ملنے پر دریوزہ گر کیا کیا آنکھیں، کیا کیا ہاتھ سوالی ہیں اُس کا ہونا مان کے، اپنے ہونے سے انکار کریں جابر نے کچھ ایسی ہی شرطیں ہم سے ٹھہرا لی ہیں حرف و زبان کے برتاؤ کا ذمّہ تو کچھ میر…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ سانپ کہاں ہے اِتنا پتہ جب چل جاتا ہے
سانپ کہاں ہے اِتنا پتہ جب چل جاتا ہے وُہ کہ ڈسا جانے والا ہے، سنبھل جاتا ہے اُس کی غرض تو بس سانسیں پی جانے تک ہے جس کو نگلے دریا اُسے، اُگل جاتا ہے گود کھلاتی خاک بھی کھسکے پَیروں تلے سے سرپر ٹھہرا بپھرا امبر بھی ڈھل جاتا ہے پانی پر لہروں کے نقش کہاں ٹھہرے ہیں منظر آتی جاتی پل میں بدل جاتا ہے دُشمن میں یہ نقص ہے جب بھی دکھائی دے تو رگ رگ میں اِک تُند الاؤ جل جاتا ہے جس کا تخت…
Read More