سید آل احمد ۔۔۔ ہمارے گھر کے آنگن میں گھٹا کس روز آئے گی

ہمارے گھر کے آنگن میں گھٹا کس روز آئے گی سکوتِ شامِ ویرانی بتا‘ کس روز آئے گی بہت دن ہو گئے ہم پر کوئی پتھر نہیں آیا شکستِ شیشۂ دل کی صدا کس روز آئے گی دُکھوں کے جلتے سورج کی تمازت جان لیوا ہے مرے حصے میں خوشیوں کی ردا کس روز آئے گی مسلسل حبسِ قید ِلب سے دم گھٹنے لگا اب تو اسیرانِ قفس! تازہ ہوا کس روز آئے گی مری پلکوں پہ ظرفِ ربِ مفلس جھلملاتا ہے مری ماں جب یہ کہتی ہے‘ دوا کس…

Read More

افضال عاجز … دریا ہے نہ دریا کی روانی کی طرح ہے

دریا ہے نہ دریا کی روانی کی طرح ہے وہ شخص تو ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح ہے برسوں سے سمجھنے کی تگ و دو میں ہوں اس کو اک لفظ ہے پیچیدہ معانی کی طرح ہے میں جس کے لئے اتنا تڑپتا ہوں شب و روز وہ میرے لیے صرف کہانی کی طرح ہے وہ جھوٹ بھی کہتا ہے تو لگتا ہے کہ سچ ہے اس کی تو ہر  اک بات گیانی کی طرح ہے

Read More

منصورحسین فائز … زمین چلنے لگی  آسمان چلنے لگا

زمین چلنے لگی  آسمان چلنے لگا قدم اٹھائے تو سارا جہان چلنے لگا کسی خیال کا سایہ تھا یا کوئی بادل سفر میں ساتھ مرے نگہبان لگا تلاشِ حق میں چلے تھے تو ہم سفر ہوکر قدم قدم پہ کوئی مہربان چلنے لگا بھنور کی گود سے کشتی اچھل کے چلنے لگی ہوا نے ساتھ دیا بادبان چلنے لگا الجھ رہا ہوں میں ہونے میں یا نہ ہونے میں یقین رکنے لگا تو گمان چلنے لگا اندھیری رات کی آغوش کا اثر دیکھا کسی کی یاد کے سائے میں دھیان…

Read More

دیوانہ گورکھپوری

اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے                                               (دیوانہ گورکھپوری)

Read More