Through darkness they came, covered in ash, scarred by depths and distance, they bore salt and fire, breath steaming at edges of decks, hands clutching railings, their bodies dizzied by the lurching vessel, trunks pulled by hand, Where are you from? I unwrapped my legacy from cloth, the marble Buddha from my grandfather, ancient as the sea-stained covers of his sutras, the briny odor of carp centuries old. What are you? Not only where they were from but who they were and would become. His strange past…
Read MoreTag: Poets
Moon by Kathleen Jamie
Last night, when the moon slipped into my attic room as an oblong of light, I sensed she’d come to commiserate. It was August. She traveled with a small valise of darkness, and the first few stars returning to the northern sky, and my room, it seemed, had missed her. She pretended an interest in the bookcase while other objects stirred, as in a rock pool, with unexpected life: strings of beads in their green bowl gleamed, the paper-crowded desk; the books, too, appeared inclined to open and confess. Being…
Read MoreThe Visit of the Professor of Aesthetics by Margaret Danner
To see you standing in the sagging bookstore door So filled me with chagrin that suddenly you seemed as Pink and white to me as newborn, hairless mouse. For I had hoped to delight you at home. Be a furl Of faint perfume and Vienna’s cord like lace, To shine my piano till a shimmer of mother-of-pearl Embraced it. To pleasantly surprise you with the grace That transcends my imitation and much worn “Louis XV” couch. To display my cathedrals and ballets. To plunge you into Africa through my nude…
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ موجِ دریا سے ضروری تھا کہ لڑتے رہتے
موجِ دریا سے ضروری تھا کہ لڑتے رہتے گلے پڑتے تھے جو گرداب تو پڑتے رہتے شعر کہنا کوئی آساں نہیں میرے نقّاد ! ہم تِری طرح سے پنسل نہیں گھڑتے رہتے ایک دن مان لی اُس کی سو بہت خوار ہُوئے کام بن جاتے اگر روز بگڑتے رہتے اور بھی رہتا اگر تن پہ لباسِ ہستی داغ دھبے مِری پوشاک پہ پڑتے رہتے آدھا آدھا کیا جاگیر کو تب چین ہُوا کب تلک بھائی سے بیکار جھگڑتے رہتے
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ کچھ دیر ٹھہر
کچھ دیر ٹھہر ۔۔۔۔۔ زمانے! گلی میں صدا تُو نے دی ہے تو بستی میں کہرام سا مچ گیا ہے شبِ تار میں جگنوؤں کی قطاریں اندھیرے کی دیوار میں دَر بنانے کی کوشش میں ہیں تیرگی منہ چھپاتی ہُوئی پھِر رہی ہے کئی روز سے رات ٹھہری ہُوئی تھی مگر تُو نے آواز دی تو یہ منظر بدلنے لگا ہے مِرا قافلہ پھِر سے چلنے لگا ہے مگر ٹمٹماتے ہُوئے جگنوؤں کی قطاروں سے سورج اُبھرنے میں کچھ دیر ہے میری مٹی سنورنے میں کچھ دیر ہے بیٹھ جا…
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ تیری محفل پہ بُرا وقت جو آیا ہوا ہے
تیری محفل پہ بُرا وقت جو آیا ہوا ہے آپ ہی دیکھ کہاں کس کو بٹھایا ہوا ہے ناگہاں آگ جل اٹھتی ہے کسی کونے سے کوئی آسیب در و بام پہ چھایا ہوا ہے نئی تعمیر کے آثار تو دیکھے نہ کہیں شہر کا شہر مگر آپ نے ڈھایا ہوا ہے ہم کہ اک عمر چراتے رہے آنکھیں جن سے اُن سوالات نے اب حشر مچایا ہوا ہے دشمنوں کی کسی سازش کا نہیں دخل اِس میں یہ جو ادبار ہے اپنا ہی کمایا ہوا ہے کھیل سے ہی…
Read Moreکرامت بخاری ۔۔۔ دل مضطرب ہے اور کوئی اضطراب ہے
دل مضطرب ہے اور کوئی اضطراب ہے خانہ خراب خواب کا عالم بھی خواب ہے تاخیر کی تپش سے توانا ہوا ہے دل تعجیل کے سفر کا یہ تازہ نصاب ہے لہجے میں ہے لہو کا بھی کچھ ذائقہ جناب یہ خون سے خطاب کی خواہش کا باب ہے رو رو کے میں نے لفظ لکھے لوحِ زیست پر شیون کا شور شعر کا اصلی شباب ہے مٹی میں جو مہک ہے وہ اعلیٰ نسب سے ہے یعنی ابوتراب سے عزت مآب ہے اشکِ رواں کی رسم کرامت سے کم…
Read Moreکرامت بخاری ۔۔۔ حسرت و ناصر و عدم تو نہیں
حسرت و ناصر و عدم تو نہیں پھر بھی چرچا ہمارا کم تو نہیں کوئی مقتل ہو یا کوئی دربار سر ہمارا کہیں پہ خم تو نہیں میرے ہاتھوں میں ہے قلم اب تک ہاتھ میرے ابھی قلم تو نہیں میں قلم کو زباں سمجھتا ہوں ہاتھ میرے ابھی قلم تو نہیں اے مسافر ترے مقدر میں جامِ حسرت ہے جامِ جم تو نہیں دفترِ دہر پڑھ کے دیکھ لیا تم ہی تم ہو کہیں پہ ہم تو نہیں ہے کرامت غزل میں اور بھی کچھ صرف لہجے کا زیر…
Read Moreآغا شاعر
ابرو نہ سنوارا کرو کٹ جائے گی انگلی نادان ہو تلوار سے کھیلا نہیں کرتے
Read Moreاشرف علی فغاں
مجھ سے جو پوچھتے ہو تو ہر حال شکر ہے یوں بھی گزر گئی مری، ووں بھی گزر گئی
Read More