سیڑھی نمبر ۲۴۲ ۔۔۔۔۔۔ شاہین عباس

ملاقات رکھو، کسی ملگجے کے حجابات میں جشن حاجات رکھو وہیں پر جہاں روشنی کم ہے اور زندگی ہے زیادہ منارے کا دو سو بیالیسو اں زینہ چڑھائی، چڑھائی، چڑھائی اکٹھے کئی سو پہر کی کسی دوپہر میں پسینے کے ہم ذات جھرنے جبینوں سے، بغلوں سے کولھوں سے، رانوں سے نکلیں تو دو سو بیالیس کی گنتی پہ رک جائیں ہم اور سمجھ لیں بہائو مکمل ہوا فرض کر لیں کہ اَب نیچے اوپر کوئی بھی نہیں کوئی تاریخ ہے اور نہ جغرافیہ کوئی تمثیل تلووں سے ، تسموں…

Read More

دو کا دھوکا ۔۔۔۔۔ شاہین عباس

طہارت کا ّقضیہ…دُہرا َدجلہ دُہری تہری ناف کا ڈھلکا میں دو کوزوں کو دائیں بائیں بھر کر بیٹھ جاتاہو ں قیامت بازیوں کا گھاگ لپکاہے یہ دائیں بائیں کا ٹپکا میں دو چھینٹوں کا اِک چھینٹا بناتاہوں قیامت او ِر قیامت کے تناسب سے یہ چھینٹا مجھ پہ پڑتا ہے تو خانہ دار، اُدھر اُس پار تم بھی بھیگ جاتے ہو ! درازی لہر کی ہو ، قہر کی ہو ہونٹ سے پھر ہونٹ جا چپکا اِدھر آدھا ابال آدھا اُدھر حلقوم میں حلقوم کا دھارا ‘ دو دھارا سارا…

Read More