سرِ شاخِ سبز گلاب ہے کہ ہے آئینہ ترا روپ ہے کوئی خواب ہے کہ ہے آئینہ مجھے پھر سے اپنی تلاش ہے ترے روبرو تجھے کیا خبر یہ شباب ہے کہ ہے آئینہ
Read MoreTag: Shair
لطیف ساحل
ٹکرائیے ہجوم سے اور جان جائیے دیوار کون کون ہے، رستہ ہے کون کون
Read Moreصہیب اکرام
بس یونہی اک دن ہوا کے ساتھ چل نکلے صہیب رہ گیا اسباب سب دہلیز پر رکھا ہوا
Read Moreصہیب اکرام
ہم فلک زاد بھی ان سبز زمینوں پہ صہیب ایسے اترے ہیں کہ پھر نقل مکانی سے گئے
Read Moreحسین مجروح
یہ نقدِ جاں ہے اسے سُود پر نہیں دیتے جسے طلب ہو ، وہ ہم سے مضاربہ کر لے
Read Moreمظہر حسین سید
کاٹ کر دینا پڑا ہاتھ بھی زنجیر کے ساتھ قید سے ورنہ رہائی نہیں دیتا تھا جہاں
Read Moreعقیل اختر
ہم نے اک درجۂ حیرت میں تجھے پایا تھا اور اک درجۂ حیرت میں گنوا بیٹھے ہیں
Read Moreریاض خیر آبادی
ایک بازار حسینوں کا لگا رہتا تھا ہائے وہ دور کہ گاہک تھا زمانہ دل کا
Read Moreمظہر حسین سید
نہ جانے پچھلے جنم کون سی خطا ہوئی تھی کہ اس جنم میں مجھے آدمی بنایا گیا
Read Moreمحمد سلیم ساگر
عشق نے خاص کردیا ہے ہمیں حاشیے سے پرے چلے گئے ہم
Read More