اختر چنیوٹی ۔۔۔ بے پردہ حرم ہیں ساتھ ترے ،پردیسی دیس پرایا ہے

بے پردہ حرم ہیں ساتھ ترے ،پردیسی دیس پرایا ہے
سجاد خدا معلوم تجھے اسلام کہاں لے آیا ہے

چھ ماہ کا یہ کم سن بچہ پہچان لیا عیسیٰ تو نہیں
شبیر تری نصرت کے لیے یہ کون پیمبر آیا ہے

زینب کو نہیں کچھ قید کا غم یہ بات مگر رلواتی ہے
شبیر کا لاشہ دھوپ میں ہے ،زندان میں گہرا سایہ ہے

تیروں تلواروں نیزوں کے شبیر نے کتنے زخم سہے
یہ زخم مگر کچھ گہرا ہے سجاد جو تو نے کھایا ہے

یہ میت پیغمبر تو نہیں ،قیدی کا جنازہ ہے لوگو
بازار میں لاش سکینہ کی ،بیمار اٹھا کر لایا ہے

اختر یہ تری آواز نہیں ،فریاد ہے دکھیا زینب کی
یٰسین کے آنسو بہتے ہیں قرآن کا دل بھر آیا ہے

Related posts

Leave a Comment