غلام حسین ساجد ۔۔۔ ہر شے مجھے نصیب ہے، پھر بھی سُکوں نہیں

ہر شے مجھے نصیب ہے، پھر بھی سُکوں نہیں
کیا یہ فشارِ ذات ہے، کیا یہ جُنوں نہیں

شاید کہیں قرار مِلے مجھ فقیر کو
شاید کسی کا ہو سکوں، اپنا تو ہُوں نہیں

الزام آ رہا ہے مِری بے نوائی پر
تو کیا مَیں اب جواب میں کچھ بھی کہوں نہیں

پہچاننے لگے ہیں سبھی آئنے مجھے
اب اور اِس نواح میں شاید رہوں نہیں

پیروں تلے زمین ہے پانی بَنی ہوئی
سر پر جو آسمان ہے وہ بے ستوں نہیں

مَیں روشنی پہ داغ ہوں وہ میری ذات پر
کیسے مَیں اُس چراغ کی آنکھیں پڑھوں نہیں

راحت اگر مِلے تو مجھے دُکھ سے کیا غرض
فرصت اگر نصیب ہو کچھ بھی کروں نہیں

جس نے بدل دیا ہے بھرے شہر کا مزاج
ساجد ہَوا کی لہر تھی وہ موجِ خواں نہیں

Related posts

Leave a Comment