ڈاکٹر فخر عباس ۔۔۔ عید کے دن بھی جسے یاد خدا کی آئے

عید کے دن بھی جسے یاد خدا کی آئے
اس کے اندر سے مہک کیوں نہ وفا کی آئے

قیمتی لوگ بہت ہم سے ہوئے ہیں رخصت
اب نہ دنیا میں کوئی لہر وبا کی آئے

ایک بھی شخص نہ تھا بات ہماری سنتا
ہم نے مجمعے کے لیے صرف دعا کی، آئے

دل تو کرتا ہے کوئی حمد کہیں، نعت کہیں
جب بھی اشعار میں تاثیر عطا کی آئے

کس طرح ان سے جفا کوشی تصور کر لیں
جن کی جانب سے صدا مہر و وفا کی آئے

کاش رحمت کے برس جائیں یہاں بھی بادل
کاش صحرا میں خبر کالی گھٹا کی آئے

خواب ہو ایسا کہ کھل جائے دریچہ دل کا
لمس پھولوں کا ملے، یاد صبا کی آئے

Related posts

Leave a Comment