میں ستارہ نہیں ۔۔۔ ازہر ندیم

میں ستارہ نہیں!
۔۔۔۔۔۔۔
میں ستارہ نہیں
یہ مری روشنی میرے باطن میں اک ضو فشاں آگ کا نام ہے
یہ مرے چار سو ایک ہالہ جو تم کو نظر آتا ہے
اس کے مرکز کے اندر مری نظم ہے
ایک تقدیس کے دائرے میں مسلسل چمکتی ہوئی
یہ مرے روبرو جتنے اجسام ہیں
ان پہ اُتری ہے لَو چاندنی کی طرح
یہ مری زندگی جس میں تھی تیرگی ایسے تاباں ہوئی
تختہِ خاک سے ہفت افلاک تک
جس قدرتھے زمانے، درخشاں ہوۓ
یہ مرے لفظ تھےاک محبت کی حدّت سے دہکے ہوۓ
یہ جو روشن ہوۓ
لوگ سمجھے مجھے مہر ومہ کی طرح
یہ مری روشنی مدتوں کی ریاضت کا اعجاز ہے
ایک انساں کے ہونے کا آغاز ہے
اک حقیقت ہوں مَیں
استعارہ نہیں!
مَیں ستارہ نہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related posts

Leave a Comment