کنایہ ہو کے رہنا ہے، اشارہ ہو کے رہنا ہے
مجھے تاریک راتوں میں ستارہ ہو کے رہنا ہے
تمھارے شہر کی گلیوں میں جلنا اور بجھنا ہے
مجھے جگنو کی صورت اک شرارہ ہو کے رہنا ہے
زمانے میں بنوں گا میں محبت کی مثال ایسی
تمھیں اپنا بنانا ہے، تمھارا ہو کے رہنا ہے
یہی نسبت مجھے کافی، یہی دولت مجھے کافی
تُْو راوی ہے مجھے تیرا کنارا ہو کے رہنا ہے
یقیں ہوتا چلا جاتا ہے مجھ کو دم بدم حمّاد
کہ اک دن حسنِ زیبا کا نظارہ ہو کے رہنا ہے
