یونہی آ سکتی تھی باتوں میں روانی یہ کہاں
نہر کی بولی سے مَیں سیکھی ہے دریا کی زباں
عیش و عشرت میں کمیداں ہُوئے ایسے مصروف
طاقِ نسیاں پہ دھری رہ گئیں شمشیر و سناں
اِس میں ظاہر ہُوئے کچھ تازہ شگوفے تو کھُلا
میرے گلدان پہ تہمت تھی یہ تصویرِ خزاں
مجھے آتا ہے حریفوں کو بھی تابع رکھنا
میرا سکہ ابھی بازار میں چلتا ہے میاں
سب کو معلوم نہیں کوچۂ جاناں کا پتا
کوئی کوئی ہے جسے اذنِ رسائی ہے یہاں
